چینائی ۔ 5 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) مدراس ہائیکورٹ نے حالیہ سماعت کے دوران کہا کہ قومی اہلیتی و داخلہ ٹسٹ (نیٹ) سے غریبوں کے خلاف امتیازی سلوک ہوتا ہے۔ اس نے یہ دریافت کرنا چاہا کہ مرکز اس امتحان کو منسوخ و کالعدم کیوں نہیں کرتا۔ ہائیکورٹ نے یہ ریمارک اس وقت کیا جب اس حقیقت کا علم ہوا کہ 2019ء کے نیٹ امتحان میں ٹاملناڈو سے کوالیفائی ہونے والے 3,081 امیدواروں میں صرف 48 ہی ایسے تھے جو بھاری شرح فیس کے ساتھ مہنگی کوچنگ کلاسیس سے استفادہ نہیں کرسکے تھے۔