آل پارٹی میٹنگ میں تنازعہ حل ، دونوں برادریوں میں ہم آہنگی بحال
بیرگؤنج : /6 جنوری (ایجنسیز) بیرگؤنج میں پیر کے روز نافذ کئے گئے کرفیو کو منگل کی سہ پہر 3.30 بجے ختم کردیا گیا ۔ یہ فیصلہ ضلع انتظامیہ دفتر پرسا کی قیادت میں منعقدہ آل پارٹی اور آل سیکٹرل اجلاس میں اتفاق رائے سے کیا گیا ۔ ضلع کے چیف ڈسٹرکٹ آفیسر بھولا دہال نے بتایا کہ مختلف سیاسی جماعتوں اور مذہبی برادریوں کے نمائندوں کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا کہ بیرون علاقہ یا دیگر مقامات کے واقعات کے حوالے سے بیرگؤنج میں کسی بھی قسم کے احتجاج یا مظاہرے نہیں کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں برادریوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی اور امن و امان کی صورتحال میں بہتری کے بعد کرفیو اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے او معمولات زندگی بتدریج بحال ہورہے ہیں ۔ اجلاس میں یہ بھی طئے پایا کہ آئندہ کسی بھی احتجاجی پروگرام کے انعقاد سے قبل چیف ڈسٹرکٹ آفیسر سے پیشگی اجازت لینا اور انہیں تحریری یادداشت (میمورنڈم) پیش کرنا لازمی ہوگا ۔ مستقبل میں مذہبی، سماجی اور ثقافتی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کیلئے ایک مستقل ہم آہنگی کمیٹی تشکیل دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ۔ اس کمیٹی میں ہندو برادری کی جانب سے پرجیت ساہ اور رنجن سنگھ جبکہ مسلم برادری کی جانب سے محمد محبوب علی (شیرو) اورعلی اصغر مدنی شامل ہوں گے ۔ اس کے علاوہ ضلع کی تمام سیاسی جماعتوں سے ایک ایک نمائندہ ، فیڈریشن آف نیپالی جرنلسٹس کے ضلعی صدر اور سول سوسائٹی کا ایک نمائندہ بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے ۔ ضرورت پڑنے پر دیگر مذہبی برادریوں کے نمائندے بھی شامل کئے جائیں گے ۔ اجلاس میں میڈیا اداروں اور صحافیوں سے اپیل کی گئی کہ وہ خبروں کی اشاعت اور نشریات میں اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ مذہبی ، ثقافتی اور سماجی ہم آہنگی متاثر نہ ہو ۔ ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا کہ امن و امان میں خلل ڈالنے یا اشتعال انگیزی پھیلانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی ۔ تمام سیاسی جماعتوں اور سماجی تنظیموں نے اپنی اپنی کوتاہیوں کا جائزہ لیتے ہوئے ضبط ، تحمل اور بھائی چارہ برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا اور موجودہ صورتحال کو معمول پر لانے میں مثبت کردار ادا کرنے پر اتفاق کیا ۔
