نیپالی مزدور ملک واپس ، مزید واپسی کے خواہاں

   

حیدرآباد۔ شہر کے صنعتی علاقوں کے علاوہ دیگر مقامات پر خدمات انجام دینے والے نیپالی شہریوں نے اپنے ملک واپسی کا فیصلہ کرلیا ہے اور وہ لاک ڈاؤن کے خوف کے سبب واپس ہونے لگے ہیں۔ حیدرآباد میں رہنے والے 200 سے زائد نیپالی شہری اپنے ملک واپس ہوچکے ہیں اور کہا جا رہاہے کہ آئندہ دو یوم کے دوران مزید نیپالی شہری اپنے ملک واپس ہونے والے ہیں۔ شہر کے صنعتی علاقوں کے علاوہ دیگر مقامات پر چوکیدار اور دیگر خدمات پر مامور یہ طبقہ ایک اور لاک ڈاؤن کے سبب ہونے والی مشکلات کے سبب پریشان ہوچکا اور گذشتہ شب 3 خانگی بسوں کے ذریعہ نیپالی شہریوں کے یہ گروہ اپنے ملک واپسی کیلئے سرحد روانہ ہوچکے ہیں جہاں سے وہ نیپال میں داخل ہوجائیں گے۔بتایا جاتا ہے کہ صنعتی علاقو ںمیں خدمات انجام دینے والے نیپالیوں کا گروہ جو کہ 184 افراد پر مشتمل ہے وہ گذشتہ شب روانہ ہوچکا ہے اور آج رات دیر گئے 160 افراد جو کہ نیپال سے تعلق رکھتے ہیں اور شہر کی ریستوراں ‘ فاسٹ فوڈ اور دیگر مقامات پر خدمات انجام دیتے ہیں وہ بھی واپس ہوچکے ہیں۔ نیپالی شہریوں کا کہناہے کہ اگر ہندستان میں ایک اور لاک ڈاؤن کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو وہ اس کو برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہیں اور بغیر ملازمت اور کاروبار ان کا یہاں رہنا انتہائی دشوار کن ثابت ہوجائے گا اسی لئے وہ سابق کے تجربہ کو نظر میں رکھتے ہوئے اپنے ملک روانہ ہونے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ریاستی حکومت اور مرکزی حکومت کی جانب سے مزدور طبقہ اور بیرون ریاست ملازمین کو اپنی اپنی جگہ رہنے کی تاکید کئے جانے کے باوجود وہ اپنے اپنے مقامات کو واپس ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔ واپسی کی تیاری کرنے والے نیپالی شہریوں نے بتایا کہ وہ خانگی بس خدمات کے حصول کے ذریعہ گروپس کی شکل میں واپس ہورہے ہیں اور حالات کے معمول پر آنے تک ان کے واپس ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ ان حالات میں ہندستان میں نہیں رہ سکتے اسی لئے لاک ڈاؤن کا اعلان ہو اس سے قبل ہی اپنے ملک واپس ہورہے ہیں۔علاوہ ازیں دنیا کے کئی ممالک ہندستان سے واپس ہونے والوں کو ملک کی سرحد میںداخل ہونے سے روک رہے ہیں اور ہندستان سے آنے والو ںکے لئے سرحدیں بند کی جا رہی ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ نیپال بھی اگر وباء کو روکنے کے نام پر سرحد کو بند کرتا ہے تو ایسی صورت میںہندستان میں ہی پھنس جائیں گے۔