اسکولوں اور سرکاری دفاتر میں اقل ترین حاضری ، اولیائے طلبہ میں خوف
سرینگر ۔5ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) حکام نے کشمیر میں دفعہ 370 کی برخواستگی کے ایک ماہ بعد مزید 19 ٹیلی فون ایکسچینج کو بحال کردیا ۔ یہ بات جمعرات کے دن بعض سرکاری عہدیداروں نے بتائی ۔ لال چوک کے تجارتی مرکز اور پریس کالونی میں ٹیلی فون کی زیرزمین لائین کا کنکشن کام کرنا شروع کرچکا ہے ۔ تاہم حکام نے بتایا کہ موبائیل فون اور انٹرنیٹ خدمات کی بحالی کا ابھی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے لیکن سڑکوں پر خانگی موٹر گاڑیوں کی آمد و رفت میں کسی قد اضافہ ہوا ہے ۔ جمعرات کے روز 32ویں دن بھی وادی کی تمام سرگرمیاں بند رہیں ۔ ریاستی حکومت کی سرکاری اسکولوں کو کھولنے کی کوششیں ثمر آور نہ ہوسکیں کیونکہ والدین اور سرپرستوں کو اپنے بچوں کی سلامتی کا خوف رہا ، اسلئے انہوں نے اپنے بچوں کو گھر سے باہر نکلنے نہیں دیا ۔ سرکاری دفاتر بھی کھول دیئے گئے ، مگر اکثر دفاتر میں حاضری بہت کم تھی ۔ حمل و نقل کی سہولت کے فقدان کے سبب لوگ دفاتر پہنچ نہ سکے مگر ضلعی صدر دفتروں پر معمول کے مطابق حاضری دیکھی گئی ۔ گذشتہ ماہ سے یہاں دفعہ 144 کا نفاذ عمل میں آیا تھا اس کی تحدیدات میں کشمیر کے اکثر حصوں میں نرمی کی گئی مگر تعطل ختم ہونے کی جمعرات کے دن بھی کوئی علامت نہیں پائی گئی ۔ کشمیر کے پرانا شہر میں صیانتی افواج کی زیادہ تعیناتی کی گئی تھی تاکہ چہارشنبہ کے دن زخموں سے چور ایک نوجوان کی موت کے بعد نظم و نسق کا کوئی مسئلہ پیدا نہ ہوجائے ۔ سیکورٹی عملہ اور احتجاجیوں کے درمیان تصادم میں ایک نوجوان زخمی ہوگیا تھا جو ایک ماہ تک زندگی اور موت کی کشمکش میں گرفتار ہونے کے بعد فوت ہوگیا ۔ اکثر اعلیٰ سطح اور دوسرے درجہ کے حامل علحدگی پسند سیاست دانوں کو احتیاطی حراست میں رکھا گیا ہے جن میں تینوں سابق وزراء اعلیٰ فاروق عبداللہ ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی شامل ہیں ، بعض قائدین گھر پر بھی نظربند ہیں ۔
کشمیر:ہڑتال اور مواصلاتی پابندی سے ہزاروں نوجوان بے روزگار
سری نگر، 5 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) وادی کشمیر میں ایک ماہ سے جاری نامساعد حالات، انٹرنیٹ اور دیگر مواصلاتی خدمات پر عائد پابندی کی وجہ سے پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے والے ہزاروں کی تعداد میں لوگ جن میں نوجوانوں کی بڑی تعداد شامل ہے ، بے روز گار ہوئے ہیں۔ مواصلاتی کمپنیوں، فیکٹریوں، کارخانوں، نجی بنکوں، ای بزنس کمپنیوں اور دکانوں پر کام کرنے والے ہزاروں کی تعداد میں ملازمین جن میں سے بڑی تعداد اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ہے ، اپنے معمول کے کام سے محروم ہوگئے ہیں اور گھروں میں بیٹھ کر اپنے اہل خانہ کے لئے باعث فکر مندی بن گئے ہیں۔وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان جو کہ ایک مواصلاتی کمپنی میں کام کرتے تھے ، نے یو این آئی اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک ماہ سے لگاتار گھر میں بیٹھنے سے وہ نہ صرف بے روزگار ہوچکے ہیں بلکہ ذہنی تناؤ کا بھی شکار ہوگئے ہیں۔انہوں نے اپنی روداد اس طرح بیان کی: ‘میں گھر میں بیٹھا ہوں، موبائل خدمات لگاتار بند ہیں، میں تقریباً بے روزگار ہوگیا ہوں، اب میں ذہنی تناؤ کا بھی شکار ہورہا ہوں جس کی وجہ سے میرے گھر والے اب میری نوکری کی فکر سے نہیں بلکہ میری صحت کی وجہ سے متفکر ہوئے ہیں’۔آٹو موبائل سیکٹر میں کام کرنے والے ایک نوجوان نے کہا کہ نوکری سے محروم ہونے سے میرے مالی مشکلات کافی حد تک بڑھ گئے ہیں۔انہوں نے کہا: ‘میں پانچ اگست سے گھر پر ہوں، کمپنی والوں نے میری چھٹی کی ہے ، آمدنی کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے گھر میں حالات ایسے ہیں کہ میرے بچوں اور والدین کو فاقے لگ سکتے ہیں’۔