انٹرنیٹ ہنوز معطل ، سیاحوں کی تعداد میں اضافہ متوقع
سرینگر ۔ 14اکتوبر ۔(سیاست ڈاٹ کام) وادی کشمیر میں دوبارہ زندگی کی گہماگہمی کا ملک کے دیگر مقامات کی طرح آغاز ہوگیا ہے۔ وادی کشمیر کو پڑوس سے خطرہ لاحق ہے ۔ 72 دن تک انٹرنیٹ سہولتوں کے بغیر وادی کشمیر کام کررہا تھا ۔ موبائیل فونس کی خدمات کا آج دوپہر سے دوبارہ آغاز ہوگیا جیسا کہ حکومت نے ہفتہ کے دن تیقن دیا تھا ۔ پوری وادی کی عوام عاجلانہ بنیادوں پر ڈائیل کرنا شروع کرچکے ہیں تاکہ وہ بیرون ریاست مقیم اپنے رشتہ داروں سے 5 اگسٹ سے اب تک بات کرنے سے محروم ہوگئے تھے ۔ جبکہ مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر کا خصوصی موقف منسوخ کردیا تھا اور ریاست کو دو مرکز زیرانتظام علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کردیا تھا۔ موبائیل فون خدمات کی بحالی صرف پوسٹ پیڈ کنکشن کے لئے ہے اور صرف آواز کے ذریعہ بات چیت اور ایس ایم ایس کی اجازت دی گئی ہے ۔ 25 لاکھ سے زیادہ موبائیل فون آج سے انٹرنیٹ خدمات کے بغیر کارکرد ہوگئے ۔ انٹرنیٹ خدمات میں واٹس ایپ بھی شامل ہے جس کو ہنوز معطل رکھا گیاہے ۔ عہدیداروں کے بموجب مواصلات اس وقت سے منقطع کردیئے گئے تھے اورعید کے ایک ہفتہ قبل سے اب تک معطل تھے ۔ فوج کو اس اقدام کے ساتھ ہی چوکسی کی حالت میں رہنے کی ہدایت دیدی گئی ہے ۔ مواصلات کی سہولتیں بحال ہونے کے ساتھ سیاحوں کی وادی کشمیر میں زیادہ تعداد میں آمد متوقع ہے کیونکہ مواصلاتی خدمات کی عدم دستیابی سے سیاح اپنے آپ کو معذور سمجھنے لگے تھے اور وادی کشمیر کی سیاحت سے گریز کررہے تھے ۔