واشنگٹن میں نسلی تعصب کیخلاف احتجاج و نعرہ بازی

,

   

جارج فلائیڈ کی موت کیخلاف عوامی برہمی

واشنگٹن ۔6جون ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکہ میںسیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کے موت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔ان دنوں واشنگٹن ڈی سی کی گلیاں دل دہلا دینے والے نعروں سے گونج رہی ہیں۔ گونج اتنی زوردار ہے کہ آپ کچھ وقت کے لیے بھول جاتے ہیں کہ دنیا میں کرونا وائرس کی وبا بھی ہے۔یہاں موجود مظاہرین اپنی آواز چند ہی قدموں پر واقع وائٹ ہاؤس تک پہنچانا چاہتے ہیں۔تئیس برس کی سیاہ فام کرسٹینا کی آنکھوں میں آنسو تھے جب وہ امریکی فوج، نیشنل گارڈز کے اہلکاروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑی تھیں۔وہ انہیں کہہ رہی تھیں کہ یہ “تمہاری مرضی پر منحصر ہے کہ تم تاریخ کی درست سمت میں کھڑے ہو جاؤ۔ تمہیں میرے سامنے نہیں میرے ساتھ کھڑے ہونا چاہیے۔”کرسٹینا ان ہزاروں مظاہرین میں سے ہیں جو سیاہ فام جارج فلائیڈ کی سفید فام پولیس اہلکاروں کی تحویل میں ہلاکت پر کئی روز سے سراپا احتجاج ہیں۔بیشتر کا نعرہ ہے کہ کرونا کی وبا سے زیادہ خطرناک سیاہ فام باشندوں کے ساتھ پولیس کا امتیازی سلوک ہے۔جب امریکی فوجیوں سے بھری تین بڑی بسوں سے 50 کے قریب فوجی باہر نکلے تو کرسٹینا نے نعرہ بلند کیا کہ ‘بلیک لائف میٹرز’ یعنی سیاہ فام باشندوں کی زندگی بھی قیمتی ہے۔ایک این جی او کے ساتھ کام کرنے والی واشنگٹن ڈی سی کی کرسٹینا نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ میں سمجھتی ہوں کہ چند سفید فام امریکی فیشن کے طور پر ان مظاہروں میں شامل ہوتے ہیں لیکن وہ اپنے رویوں میں تبدیلی نہیں لاتے۔کرسٹینا کا مزید کہنا تھا کہ “بعض واقعی تبدیلی چاہتے ہیں۔ ہمیں ہر شعبے میں سیاہ فاموں کو برابری کا درجہ دینا پڑے گا.”اْن کے بقول افسوس یہ ہے کہ ہمارا واسطہ ایک ایسی حکومت سے پڑا ہے جو نسلی تفریق کو روکنے کے اقدامات اٹھانے کے بجائے پرامن مظاہرین سے نمٹنے کے لیے فوج بھیج رہی ہے۔کرسٹینا نے کرفیو اور واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والے مظاہروں میں فوج کی تعیناتی اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ وہ اس پہلے تجربے پر نالاں تھیں۔?پولیس کی زیرِ حراست شہریوں کی ہلاکت ہر نظر رکھنے والے ادارے ‘میپنگ پولیس وائلنس’ کے مطابق 2013 سے 2019 تک امریکی پولیس کی تحویل میں 7666 لوگ ہلاک ہو چکے ہیں جن میں آبادی کے لحاظ سے سیاہ فام لوگوں کی تعداد زیادہ ہے۔امریکہ میں افریقی امریکی عوام کل آبادی کا 13 فی صد ہیں۔ اس کے باوجود تنظیم کے مطابق پولیس کی زیرِ حراست سیاہ فام امریکیوں کو ہلاک کرنے کی شرح زیادہ ہے۔کیلیفورنیا، ٹیکساس اور فلوریڈا ایسی ریاستیں ہیں جہاں پولیس حراست میں سب سے زیادہ سیاہ فام شہری ہلاک ہوئے۔