کورونا وبا کی دردناک کہانی
نئی دہلی : ایک 14 سالہ بچہ اپنے والدین کی نعش کے پاس اپنے گھر میں گھنٹوں بیٹھا رہا۔ بچے کے والدین کورونا وبا کی نذر ہوگئے ، شمالی دہلی میں واقع اپنے گھر میں رہنے والے اس بچے کو کسی رشتے دار کے گھر جانے میں ہمت کرنی پڑی۔ ایک این جی او میں کام کرنے والے ایک کارکن نے بتایا کہ یہ بچہ کئی منٹ خاموش رہا اور بمشکل کچھ بھی بول سکا۔ لڑکے کی والدہ کی عمر 35 سے 40 سال کے درمیان رہی ہوگی، سب سے پہلے والدہ میں کورونا کی علامت نظر آئی ،پھر اس کے 41 سالہ والدبھی کورونا کی زد میں آگئے۔ایک ڈاکٹر نے کچھ دوائیں لکھ کر دیں، دیگر اہل خانہ آکسیجن سلنڈر حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ،لیکن بدقسمتی یہ کہہ لیں کہ اس بچہ کے والدین گھر میں ہی بیماری کے شکار ہوکر دم توڑ گئے۔اس جوڑے کی طرح کورونا کی اس دوسری لہر میں کتنے افرادکی موت ہوگئی اور ہندوستانی طبی نظام بے بسی کے عالم میں دیکھتا رہا، لیکن کچھ کرنے سے قاصر تھا۔ اس عمر کے کئی سارے بچے ایسے ہیں ،جن کے والدین کی موت کورونا وائرس کے باعث ہوئی۔ڈی سی پی سی آر کی چیئرپرسن انوراگ کنڈو نے کہا کہ انہیں بہت سی ایسی اطلاع ملی ہیں ، جن میںبچے تنہا چھوڑدیئے گئے،کیونکہ ان کے والدین ہاسپٹل میں داخل تھے، یا بچہ اپنا پوراہی خاندان کھو چکا ہے۔ کنڈو نے بتایا کہ حالت یہ ہے کہ کئی بار ان کو کھانا دینے والا کوئی نہیں ہے۔ ایک ڈی سی پی سی آر رضاکار نے بتایا کہ ہماری این جی او نے 14 سال کے لڑکے کے رشتہ دار سے رابطہ کیا ہے، ہم ایسے بچوں کو بہتر گھر کی تنعش میںرابطہ قائم کرنے میں مدد کریں گے۔تاہم رشتہ دار نے کسی بھی ادارہ کی مدد لینے سے انکار کردیا ہے۔کنڈو نے بتایا کہ کم از کم دو معاملہ میں بچوں کو ان کی حالت پر چھوڑدیا گیا ہے ، ہم انہیں دہلی کے ایک پناہ گاہ منتقل کر چکے ہیں ، یہاں تک کہ ہم ان کے لئے ایسی فیملی تنعش کررہے ہیں، جو ان کی دیکھ بھال کرسکیں اور انھیں بہتر مستقبل دے سکیں۔
کنڈو نے کہا کہ لوگ ہمیشہ ایسے بچوں کو قبول کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔