کمپنیوں سے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ، سائبر جرائم ماہرین فائدہ اٹھانے کوشاں
حیدرآباد۔13اکٹوبر(سیاست نیوز) واٹس ایپ اور فیس بک کے لئے کوئی کرایہ یا ماہانہ رقم وصول نہیں کی جائے گی اور نہ ہی کمپنیوں کی جانب سے کوئی اس طرح کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے بھی ایسی کوئی پالیسی تیار نہیں کی گئی ہے کہ ہندستان میں واٹس ایپ یا فیس بک کے استعمال کے لئے ماہانہ چارجس ادا کرنے ہوں گے ۔ گذشتہ دنوں فیس بک‘ انسٹا گرام کے علاوہ واٹس ایپ میں آنے والی تکنیکی خرابی اور اس کے سبب پیدا شدہ صورتحال کا سائبر جرائم کے ماہرین کی جانب سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جار ہی ہے اور اس طرح کے پیغام صارفین کو روانہ کرتے ہوئے ان کی تفصیلات حاصل کی جانے لگی ہیں۔ گذشتہ دو یوم سے صارفین کو موصول ہونے والے پیغام میں دعویٰ کیا جا رہاہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے تیار کی جانے والی نئی ٹیلیکام پالیسی کے تحت ہندستانی صارفین کو واٹس ایپ اور فیس بک کے استعمال کیلئے چارجس ادا کرنے ہوں گے اور جو صارفین ان چارجس سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں انہیں اپنی تفصیلات کے اندراج کا مشورہ دیا جا رہاہے۔ حکومت ہند‘ فیس بک کے علاوہ واٹس ایپ کی جانب سے اس سلسلہ میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی ہے اور نہ ہی اس بات کی توثیق کی گئی ہے لیکن سائبر جرائم پر نگاہ رکھنے والوں کا کہناہے کہ اس طرح کے پیغام کی ترسیل اور انہیں پھیلاتے ہوئے شہریو ںمیں خوف و ہراس پیدا کیا جا رہاہے اور ان کا ڈاٹا وصول کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ اسی لئے اس طرح کی کسی بھی بے بنیاد خبروں سے چوکنا رہنے اور ان سائبر جرائم میں ملوث افراد کا شکار ہونے سے محفوظ رہنے کے لئے چوکنا رہیں ۔ واٹس ایپ ‘ فیس بک نے ہندستان میں خدمات کو ختم کرنے کے سلسلہ میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے اور نہ ہی مرکزی حکومت کی جانب سے اس طرح کے کسی اقدام کو منظوری دی گئی ہے ۔م