واچ لسٹ میں نام شامل، امریکی مسلم میئر کاحکومت کیخلاف مقدمہ

   

نیویارک : امریکی ریاست نیو جرسی کے ایک شہر کے مئیر، جنہیں اس سال وہائٹ ہاؤس کی ایک تقریب میں شرکت سے روک دیا گیا تھا، ان درجن بھر امریکیوں میں شامل ہیں جو دہشت گردوں کی ایک ایسی واچ لسٹ کے مسلسل استعمال کے لئے امریکی حکومت پر مقدمہ دائر کر رہے ہیں جو 11 ستمبر 2011 کے دہشت گرد حملوں کے بعد تیار کی گئی تھی۔ نیو جرسی کے شہر پراسپیکٹ پارک کے مئیر محمد خیر اللہ کو جو پانچ مدتوں سے وہاں کے مئیر ہیں، دوسرے منتخب مسلمان عہدیداروں کے ساتھ مئی میں وہائٹ ہاؤس میں عید کی ایک تقریب میں مدعو کیا گیا تھا۔ لیکن تقریب سے کچھ ہی دیر پہلے انہیں بتایا گیا کہ انہیں کمپاؤنڈ میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ سیکریٹ سروس نے تو یہ وضاحت نہیں کی کہ اس نے انہیں شرکت کی اجازت کیوں نہیں دی لیکن خیر اللہ اور 11 دوسرے لوگوں نے جو مقدمہ کیا ہے، اس میں دعوی کیا گیا ہے کہ انہیں اس لئے روکا گیا کہ ان کا نام 2019 اور 2022 کے درمیان دہشت گردوں کی واچ لسٹ میں شامل تھا۔ دائر کردہ مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ اگست 2022 کے قریب جبکہ مدعا علیہان نے اس فہرست سے خیر اللہ کا نام نکال بھی لیا۔ لیکن انہوں نے آج تک بھی اس سلسلے کو جاری رکھا تاکہ واچ لسٹ میں ماضی میں ان کے نام کی شمولیت کے حوالے سے ان کو نقصان پہنچانے اور رسوا کرنے کے لئے ریکارڈ برقرار رہے۔ یہ مقدمہ کونسل آف امریکن اسلامک ریلیشنز یا کئیر نے جو کہ ایک مسلمانوں کی وکالت کرنے والا گروپ ہے، انیس وفاقی اداروں کے خلاف دائر کیا ہے۔