واہ بلدیہ ! بقید حیات شخص کا صداقتنامہ موت جاری کردیا گیا

   

حقیقی مرحومین کے صداقتناموں کی اجرائی میں بے اعتنائی ‘ بدعنوانیاں
حیدرآباد۔شہر میں صداقتنامہ پیدائش اور اموات کا درمیانی آدمی کے بغیر حصول ناممکن ہوتاجارہا ہے اور اس کیلئے 1000تا3000 ہزار روپئے وصول کئے جا رہے ہیں۔دونوں شہروں میں صداقتنامہ پیدائش سے زیادہ صداقتنامہ موت حاصل کرنے دشواریوں کا سامنا ہے ۔ عہدیدارو ں کی جانب سے عارضی عملہ کو ذمہ داری تفویض کئے جانے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہیلت اسسٹنٹ کو رشوت کیلئے استعمال کرنے لگے ہیں۔ چارمینار زون میں 6ماہ کے دوران 3500 درخواستیں وصول ہوئیں جو زیر التواء ہیں اور ان کی یکسوئی کیلئے عہدیدار دلچسپی نہیں دکھا رہے ہیں جو کہ ان کے بدعنوانیوں میں ملوث ہونے کا ثبوت ہے۔حکومت و جی ایچ ایم سی کی جانب سے برتھ اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ کی اجرائی کیلئے آن لائن خدمات کے دعوے کئے جا رہے ہیں لیکن بلدیہ سے درخواستوں کی عدم یکسوئی کے ذریعہ انہیں زیر التواء رکھا جارہا ہے اور اگر کوئی جلد ان صداقتناموں کے حصول کی کوشش کر تا ہے تو ہزاروں روپئے ادا کرنے پڑتے ہیں۔بدعنوان عہدیداروں اور عملہ کے سبب درخواست گذاروں کو مشکلات کا سامنا ہے جبکہ مجرمانہ ذہنیت کے حامل افراد ان لوگوں کے صداقتنامہ اموات بھی حاصل کرنے لگے ہیں جو زندہ ہیں۔کاروان علاقہ میں دبئی میں مقیم ایک شخص کے نام صداقتنامہ موت جاری کیا گیا جبکہ وہ دبئی میں زندہ ہے ۔ اس صداقتانامہ کے غلط استعمال کیلئے یہ حرکت کی گئی ۔ جو لوگ حقیقت میں فوت ہوچکے ہیں ان کے صداقتنامہ کی اجرائی کے سلسلہ میں بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی بے اعتنائی سے اندازہ ہوتا ہے کہ خود عہدیدار ان بدعنوانیوں میں ملوث ہیں جس کے سبب تاخیر ہورہی ہے۔