نیویارک: ورلڈ بینک کے ایگزیکٹو بورڈ نے جمعرات کو افغانیوں کے ساتھ اپنے تعلقات کیلئے ایک نئی پالیسی کی توثیق کی جس کے تحت طالبان حکام کے کنٹرول سے باہر تقریباً 300 ملین ڈالر کے نئے فنڈز دستیاب ہو سکتے ہیں۔ بینک نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ اس کی افغانستان کے ساتھ نئی پالیسی، جسے اپروچ 3.0 کا نام دیا گیا ہے، انفراسٹرکچر کا ایک علاقائی منصوبہ بھی بحال کر دے گی جو اگست 2021 میں طالبان کے جنوبی ایشیائی ملک کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد روک دیا گیا تھا۔بینک کے ایک ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ اس طریقہ کار کے تحت ورلڈ بینک کا دنیا کے غریب ترین ممالک کیلئے قرض دینے والا بازو جو انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ اسوسی ایشن کے نام سے معروف ہے، اگلے 15 ماہ کے دوران تقریباً 300 ملین ڈالر فراہم کرے گا جو بورڈ کی مزید منظوری سے مشروط ہے۔تاہم بینک نے بورڈ کے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ ملک میں ورلڈ بینک کی دیگر فنڈنگ کی طرح نئی فنڈنگ “اقوامِ متحدہ کی ایجنسیوں اور دیگر عوامی بین الاقوامی تنظیموں کیلئے گرانٹس کے ذریعے کی جائے گی۔اس نے مزید کہا گیا کہ یہ فنڈز ملک بھر میں بنیادی خدمات کی حمایت جاری رکھیں گے خاص طور پر خواتین کو فائدہ پہنچانے والی اور طالبان کی عبوری انتظامیہ کے کنٹرول سے باہر ہوں گے۔اگست 2021 میں اقتدار میں واپسی کے بعد سے طالبان حکام نے اسلام کی ایک سخت تشریح نافذ کی ہے جس میں خواتین کو قوانین کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جسے اقوام متحدہ نے ’’صنفی امتیاز‘‘ کا نام دیا ہے۔