ورلڈ ڈیفنس شو میں F-35 توجہ کا مرکز

   

ریاض ۔ 10 فبروری (ایجنسیز) اتوار کو ملہم (سعودی دارالحکومت ریاض کے شمال) میں شروع ہونے والے ورلڈ ڈیفنس شو 2026 کے شرکاء اور سعودی شہری F-35طیارے کے اس ماڈل کے گرد جمع ہو گئے جو سعودی شناخت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اسے رائل سعودی ایئر فورس کے “تاج کا ہیرا” قرار دیا جا رہا ہے۔ نمائش کے شرکاء کو لاک ہیڈ مارٹن کے پویلین میں اس جدید لڑاکا طیارے کے کاک پٹ کا انٹرایکٹو تجربہ کرنے کا موقع ملا۔ اس کے ساتھ ساتھ دنیا کے جدید ترین اور صفِ اول کے لڑاکا طیاروں میں شامل اس طیارے میں موجود جدید ٹیکنالوجیز کے بارے میں تعارف بھی پیش کیا گیا۔ F-35طیارہ دن اور رات میں دیکھنے کی مربوط صلاحیتوں کا حامل ہے، جو آپریشنل مشن کی انجام دہی کے دوران فوری رد عمل اور درست فیصلہ سازی میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ اس لڑاکا طیارے میں لوگوں کی گہری دلچسپی اس نمائش کی اہمیت کی عکاسی کرتی ہے، جو دفاعی صنعتوں میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور اختراعات کی نمائش کیلئے ایک اہم بین الاقوامی پلیٹ فارم ہے۔ یہ تجربات و معلومات کے تبادلے کے مواقع فراہم کرتا ہے، جو دفاع اور سکیورٹی کے شعبوں میں تیزی سے ہونے والی پیش رفت سے ہم آہنگ ہے اور مملکت کو فوجی اختراعات کا عالمی مرکز بناتا ہے۔سعودی عرب نے 48 تک F-35لڑاکا طیاروں کی خریداری کیلئے با ضابطہ درخواست دی تھی، امریکی انتظامیہ نے وزارت دفاع کے اندر اس کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ نومبر 2025 کے وسط میں امریکہ نے اپنے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ وہ سعودی عرب کو ان طیاروں کی فروخت کی منظوری دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔روئل سعودی ایئر فورس کو اپنے جدید بیڑے اور اعلیٰ ترین جنگی تجربہ و پیشہ ورانہ مہارت رکھنے والے پائلٹوں کی بدولت علاقائی سطح پر طاقتور ترین فضائی افواج میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس امریکی اسٹیلتھ لڑاکا طیارے کی شمولیت سے، اپنی بہترین جنگی اور دفاعی صلاحیتوں اور جدید ترین ٹیکنالوجی کی بدولت، سعودی فضائیہ کی درجہ بندی مزید کئی درجے بہتر ہو جائے گی۔