ورنگل میں کامیابی کا بی جے پی کا خواب چکناچور ہوگا

   

سیلاب کے موقع پر مرکزی حکومت نے ورنگل کی کوئی مدد نہیں کی : ای دیاکر راؤ
حیدرآباد : ریاستی وزیر پنچایت راج و دیہی ترقیات ای دیاکر راؤ نے تلنگانہ بی جے پی کے صدر بنڈی سنجے پر ورنگل میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں کامیابی کے سپنے دیکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے سپنے ٹوٹ کر چور چوڑ ہوجائیں گے۔ آج ورنگل میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ای دیاکر راؤ نے کہا کہ ورنگل میں ٹی آر ایس کو شکست ہوجانے بنڈی سنجے کا دعویٰ مضحکہ خیز ہے۔ ٹی آر ایس شاندار کامیابی حاصل کرے گی اور ورنگل کارپوریشن پر اپنا قبضہ برقرار رکھے گی۔ شہر ورنگل کی ترقی کیلئے تلنگانہ حکومت نے بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام کئے ہیں۔ عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر اور ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر کی خصوصی دلچسپی کے باعث ورنگل تیزی سے ترقی کرنے والے ملک کے دوسرے شہروں میں شامل ہوا ہے۔ ریاست میں ابھی تک جتنے بھی انتخابات ہوئے ہیں، ان انتخابات میں عوام نے ٹی آر ایس پر مکمل بھروسہ جتایا ہے اور ہر انتخابات میں بی جے پی کو شکست ہوئی ہے۔ باوجود اس کے بنڈی سنجے نے اپنا اور اپنے پارٹی کا محاسبہ نہیں کیا ہے۔ شہر ورنگل میں سیلاب آنے پر مرکزی حکومت نے ایک روپئے کی مدد نہیں کی جبکہ دوسرے ریاستوں کو پیاکیج دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی صرف وعدوں تک محدود ہے۔ حیدرآباد میں سیلاب کی تباہی کے بعد بی جے پی نے جی ایچ ایم سی انتخابات میں عوام سے جو وعدے کئے تھے، اس میں ایک وعدے کو بھی پورا نہیں کیا ہے۔ نظام آباد میں بلدی بورڈ قائم نہیں کیا گیا۔ قاضی پیٹ میں ریلوے کوچ فیکٹری قائم نہیں کی گئی۔ قبائیلی یونیورسٹی قائم نہیں ہوئی۔ بیارم میں اسٹیل کمپنی قائم نہیں کی گئی، جس کے بعد بی جے پی ورنگل کے عوام سے ووٹ مانگنے کے اخلاقی حق سے محروم ہوگئی۔