ورنگل کا نام تبدیل کرتے ہوئے تلنگانہ کی تاریخی و ثقافتی حیثیت کو ختم کرنے کی کوشش

   

چیف منسٹر کے فیصلہ کی مخالفت ، صدر کل ہند مجلس تعمیر ملت جناب سید جلیل احمد ایڈوکیٹ کا بیان
حیدرآباد : صدر کل ہند مجلس تعمیر ملت جناب سید جلیل احمد ایڈوکیٹ نے چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے اس فیصلہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ ضلع ورنگل (رورل ) کا نام تبدیل کر کے اسے سابق وزیراعظم پی وی نرسمہا راؤ کے نام سے موسوم کیا جائے گا ۔ صدر تعمیر ملت نے کہا کہ پی وی نرسمہا راؤ سرزمین تلنگانہ کے قائد تھے جو وزارت عظمیٰ کے جلیل القدر عہدہ پر فائز ہوئے ۔ چونکہ یہ سال ان کے یوم پیدائش کا سوواں سال ہے ۔ اس لیے ریاستی حکومت نے ان کی صد سالہ تقاریب جوش و خروش سے منانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس مقصد کے لیے دس کروڑ روپئے کی بھاری رقم بھی منظور کی ہے ۔ حکومت کے اس فیصلہ پر اعتراضات بھی ہوئے ہیں ۔ لیکن قابل اعتراض بات تو ضلع ورنگل کا نام تبدیل کرنے کی ہے ۔ علاقہ تلنگانہ میں ورنگل کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت ہے اور یہ ضلع آٹھ سو سال کی شاندار تاریخی ورثہ کا حامل ہے ۔ یہ کاکتیہ خاندان کا صدر مقام رہا اسی لیے تلنگانہ میں اس ضلع کو اہمیت دی جاتی ہے ۔ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد انتظامی سہولت کے نام پر اس ضلع کو تقسیم کرتے ہوئے دو حصوں میں بانٹتے ہوئے ضلع ورنگل کی تاریخی حیثیت اور اہمیت کو دانستہ طور پر ختم کردیا گیا ۔ مگر انتہائی افسوس کی بات ہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اب ضلع ورنگل رورل کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ حالانکہ سلاطین دہلی سے لے کر نظام حیدرآباد نے اختیار کلی رکھنے کے باوجود جو صرف اس ضلع کا نہیں بلکہ کسی بھی ضلع کا نام تبدیل نہیں کیا اور مقامی عوام کے جذبات و احساسات کا بھر پور احترام کیا یہی وجہ ہے کہ لوگ آج بھی نواب عثمان علی خاں کا نام عزت و احترام سے لیتے ہیں ۔ وہ ہندو مسلم رعایا کو اپنی دو آنکھیں سمجھتے تھے اور مسٹر کے چندر شیکھر راؤ بھی ان کی پیروی میں اسی قسم کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر اپنے عمل سے وہ اس دعوے سے انصاف نہیں کر پارہے ہیں ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے پہلے تو اس ضلع کے دو ٹکڑے کرتے ہوئے اس کی عظمت ، حیثیت اور اہمیت کو ختم کردیا اور اب رہی سہی ، کسر اس کا نام بدل کر کے پوری کرنی چاہتے ہیں ۔ جناب سید جلیل احمد نے کہا کہ چیف منسٹر عوام کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے اس ضلع کا موجودہ نام برقرار رکھیں اور اسے تبدیل کرنے کی کوشش ترک کردیں ۔۔