ورنگل کی کونین شادمانی مہلک نایاب بیماری سے متاثر

   

برطانیہ میں زیر علاج، ہمدردان ملت سے مالی مدد درکار، خداترس حیدرآبادیوں سے مدد کی امید

کونین شادمانی کی بیماری ایسی ہے جس میں پھیپڑوں کے بی پی کو کنٹرول کرنے اور Arteries کو بند ہونے سے روکنے کیلئے انہیں جسم کے باہر ایک بہت بڑے بیاگ سے جوڑا جاتا ہے جو زندگی بھر رکھنا پڑتا ہے۔

حیدرآباد: 15 جون (سیاست نیوز) ہمدردی، ایثار و خلوص ایسے پاکیزہ جذبے ہیں جو انسان کو انسانیت کی معراج پر پہنچاتے ہیں۔ ہر دور میں ان انسانوں کی بہت قدر کی گئی جو بیماروں کی تیمارداری ان کے علاج و معالجہ میں غیر معمولی طور پر مشغول ہوتے ہیں۔ جہاں تک بیماروں کی تیمارداری ان کی خدمت کا سوال ہے مسلمان اس معاملہ میں سب سے آگے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دین اسلام میں بیماروں کی عیادت کو بھی عبادت قرار دیا گیا ہے۔ یہاں تک حکم دیا گیا ہے کہ جو لوگ بیمار ہیں نہ صرف ان کی عیادت کرو بلکہ ان سے اپنے لیے دعائیں بھی کرواو لیکن آج کل اس شعبہ میں عیسائی آگے دکھائی دے رہے ہیں۔ آپ ذرا غور کیجئے اگر ورنگل تلنگانہ کی رہنے والی کوئی خاتون اعلی تعلیم کے لیے لندن جاتی ہے اور وہاں اسے پتہ چلتا ہے کہ وہ ایک مہلک اور شاذونادر پائی جانے والی نایاب بیماری کا Pulmonary Arterial Hypertension میں مبتلا ہیں اور وہ اسی بیماری سے جس کا علاج صرف امریکہ اور برطانیہ میں دستیاب ہے اور جس پر یومیہ 5.5 لاکھ روپئے خرچ آتا ہے تو اس کا کیا حال ہوگا لیکن اللہ کی شان کہ وہ اس خاتون کے علاج کا بندوبست کرتا ہے۔ حکومت برطانیہ انسانی بنیادوں پر اس کے علاج کی ذمہ داری لیتی ہے۔ قارئین ہم بات کررہے ہیں کونین شادمانی کی جو تین بچوں کی ماں ہے جن کی عمریں سات سال، چار سال اور تین سال ہیں۔ یہ تینوں بچے ورنگل کے ہنمکنڈہ میں اپنے نانا محمد سراج الدین کے ساتھ رہتے ہیں۔ وہ 30 جنوری 2023ء کو اسٹوڈنٹ ویزا پر اپنے شوہر کے ساتھ لندن پہنچی تھی۔ 19 اپریل سے رائل پاپ ورتھ اسپتال کیمبرج میں ان کا علاج کیا جارہا ہے۔ اب دو صورتوں میں ہی کونین شادمانی برطانیہ میں رہ سکتی ہیں ایک تو اسٹوڈنٹ ویزے پر اور دوسرے جاب ویزے پر اگر وہ اسٹوڈنٹ ویزے پر رہتی ہیں تو انہیں 11 لاکھ روپئے اور جاب ویزے پر رہنے کی کوشش کرتی ہیں تو 15 لاکھ روپیوں کی ضرورت ہوگی۔ لیکن وہ یا ان کے شوہر اس کے متحمل نہیں ہیں ان حالات میں ہمدردان ملت ہی اپنے عطیات کے ذریعہ ان کی مدد کرسکتے ہیں۔ نیوز ایڈیٹر سیاست نے کونین شادمانی کے والد سراج الدین کو ممکنہ تعاون کا تیقن دیا ہے۔ ویسے بھی ہمارے شہر میں سکریٹری فیض عام ٹرسٹ جناب افتخار حسین جیسے مخیر ہمدرد ملت جیسی بابرکت شخصیتیں موجود ہیں جن کے سینوں میں اللہ عزوجل نے ایسے دل عطا کئے ہیں جو ضرورت مند انسانوں خاص کر طلباء و طالبات اور بیماروں کی مدد کیلئے تڑپتے ہیں۔ چنانچہ قارئین سیاست اور سیاست ٹی وی کے ناظرین تلنگانہ اور بیرون ملک مقیم خداترس حیدرآبادی اپنے گرانقدر عطیات کے ذریعہ ایک بیٹی تین چھوٹے چھوٹے بچوں کی ماں کو بچاسکتے ہیں۔ ذیل میں کونین شادمانی کے والد محمد سراج الدین کے اکائونٹ کی تفصیلات درج کی جارہی ہیں۔ مالی اعانت کرنے والے اس میں اپنے عطیات جمع کرواسکتے ہیں۔
Mohammed Sirajuddin, Bank: SBI, Branch: Kazipet, Ac/No: 52205128412, IFSC: SBIN0018171, Mob: 9949710085