ورک فرم ہوم کے رجحان میں دوبارہ اضافہ، گھر سے کام کرنے میں اگست تک توسیع متوقع

   

حیدرآباد۔ ملک کی کئی ریاستوں میں لاک ڈاؤن کے فیصلہ کے بعد ورک فرم ہوم کے رجحان میں دوبارہ اضافہ ہوچکا ہے اور وہ کمپنیاں جو کہ اپنے دفتری امور کا آغاز کرچکی تھیں وہ دوبارہ ورک فرم ہوم کے رجحان کو فروغ دینے لگی ہیں۔ سال گذشتہ مارچ میں ملک بھر کے علاوہ دنیا کے کئی ممالک میں لاک ڈاؤن کے بعد ورک فرم ہوم کا کلچر شروع ہوا تھا اور انفارمیشن ٹکنالوجی کمپنیو ںمیں اب بھی وہ کلچر برقرار ہے اور 2020 سے ہی آئی ٹی کمپنیوں کی جانب سے گھر سے کام کرنے کے عمل میں توسیع دیتے رہے ہیں لیکن جو کمپنیاں اپنے ملازمین کو دفتر طلب کرنے لگی تھیں ان کمپنیوں کے ذمہ داروں نے اب دوبارہ گھر سے کام کاج کی اجازت دینی شروع کردی ہے ۔ ریاست تلنگانہ کے علاوہ ملک کی کئی ریاستوں میں لاک ڈاؤن کے فیصلہ کے بعد خانگی کمپنیوں کے ذمہ دارو ںکی جانب سے اپنی کمپنی کے ملازمین کو دوبارہ گھر سے کام کاج کیلئے کہا جانے لگا ہے ۔ کمپنیوں کے ذمہ داروں کا کہناہے کہ ہندوستان میں اب خانگی کمپنیوں کی جانب سے طویل مدت کیلئے ملازمین کو گھر سے کام کاج کیلئے تیار ہوجانا چاہئے کیونکہ آئندہ تین ماہ کے دوران حالات کے معمول پر آنے کے کوئی امکانات نظر نہیں آرہے ہیں کیونکہ مرکزی حکومت کی جانب سے تیسری لہر کا انتباہ دیا جاچکا ہے اور اس کے علاوہ کورونا وائرس سے ٹھیک ہونے والوں میں بلیک فنگس کی علامات کا پایاجانا شہریوں میں تشویش کا باعث بننے لگا ہے اسی لئے ریاست تلنگانہ کے علاوہ ملک کی دیگر ریاستوں میں موجود خانگی کمپنیوں کے ذمہ داروں کی جانب سے اپنے ملازمین کو طویل مدت کیلئے گھر سے کام کرنے پر زور دیا جانے لگا ہے ۔ انفارمیشن ٹکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے 2021 جون تک گھر سے کام کاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن بتایا جارہا ہے کہ آئی ٹی کمپنیوں نے گھر سے کام کاج کی مدت میں اکٹوبر تک کی توسیع کا منصوبہ تیار کرلیا ہے اور اس سلسلہ میں اپنی کمپنی کے ملازمین کو واقف کروایا جانے لگا ہے۔ گذشتہ ایک برس سے گھر سے کام کاج کررہے ملازمین کا کہنا ہے کہ اب ان کے لئے گھر سے کام کرنا کوئی دشوار نہیں رہا ہے بلکہ کئی کمپنیوں کے ملازمین Vacation کو Workation کے طور پر منانے لگے ہیں اور پہاڑی علاقوں میں ایک ماہ یا چند ہفتوں کیلئے روانہ ہوتے ہوئے وہاں سے دفتری امور بھی انجام دے رہے ہیں اور کام کاج کے ساتھ ساتھ تعطیلات اور پہاڑی علاقوں سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔