وزیر اعظم لیبیا عبدالحمید قاتلانہ حملہ میں محفوظ

   

طرابلس: وزیر اعظم عبدالحمید الدبیبہ جب گھر واپس لوٹ رہے تھے تو اس وقت ان کی گاڑی پر مبینہ طور پر حملہ کیا گیا۔ یہ واقعہ ان کی جگہ کسی دوسرے شخص کو وزیر اعظم مقرر کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں ہونے والی ووٹنگ سے قبل پیش آیا ہے۔لیبیا کے مقامی اور بعض بین الاقوامی میڈیا اداروں کے مطابق، ملک کے وزیر اعظم عبدالحمید الدبیبہ جمعرات کے روز علی الصبح ایک حملے میں اس وقت بال بال بچ گئے جب ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی۔ ان کی کار پر کئی گولیاں لگیں۔ ایک ایسے وقت جب ملک کو کنٹرول کرنے کے لیے لیبیا کے مشرقی خطے کی پارلیمان اور الدبیبہ کی قومی اتحاد پر مبنی حکومت کے درمیان شدید رسہ کشی جاری ہے، مبینہ طور پر حملے کا یہ واقعہ پیش آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ واقعے کی تفتیش کے احکامات دے دیے گئے ہیں۔خبر رساں ادارے روئٹرز نے اپنے ایک ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ حملہ اس وقت ہوا جب وزیر اعظم عبدالحمید الدبیبہ صبح صبح گھر لوٹ رہے تھے۔ واضح طور پر اس واقعے کو انہیں قتل کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔اگر اس بات کی حتمی تصدیق ہو جاتی ہے کہ وزیر اعظم عبدالحمید کو قتل کرنے کی کوشش ہو رہی ہے تو اس سے لیبیا کا سیاسی بحران مزید وسیع ہو سکتا ہے۔