یکم اکٹوبر کو محبوب نگر اور 3 اکٹوبر کو نظام آباد میں روڈ شو ہوگا۔ 6 اکٹوبر کو پارٹی صدر جے پی نڈا تلنگانہ آئیں گے
حیدرآباد /29 ستمبر ( سیاست نیوز )بی جے پی کی قومی قیادت اپنی ساری توجہ تلنگانہ پر مرکوز کردی ہے ۔ انتخابی ماحول کو سازگار بنانے اور پارٹی کیڈر کی خاموشی کو توڑنے کیلئے مرکزی وزراء ، بی جے پی کے قومی قائدین اور شعلہ بیان لیڈرس کو تلنگانہ لانے کی حکمت عملی تیار کر رہی ہے ۔ الیکشن کمیشن سے شیڈول کی اجرائی کے بعد پولنگ تک 30 تا 40 بڑے جلسہ منعقد کرنے کا پلان تیار کیا ہے ۔ اس سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی یکم اکٹوبر کو محبوب نگر اور 3 ۔اکٹوبر کو نظام آباد میں روڈ شوز میں حصہ لے کر جلسہ سے خطاب کریں گے ۔ 6 اکٹوبر کو بی جے پی قومی صدر جے پی نڈا ریاست کے دورہ پر پہونچ رہے ہیں اور حیدرآباد میں بی جے پی اسٹیٹ کونسل اجلاس میں شرکت کرینگے ‘ ووٹرس کو بی جے پی کی طرف راغب کرنے منصوبے کا اعلان کریں گے ۔ پارٹی امیدواروں کے انتخاب ، پارٹی منشور کی اجرائی اور انتخابی مہم چلانے کی منصوبہ بندی کا اعلان کریں گے ۔ اس کے علاوہ دیگر اہم قائدین امیت شاہ ، مرکزی وزراء ، اترپردیش ، آسام کے چیف منسٹرس مہاراشٹرا کے ڈپٹی چیف منسٹر کے علاوہ دیگر قائدین کو تلنگانہ انتخابی مہم کا حصہ بنایا جارہا ہے ۔ وزیر اعظم مودی دورہ محبوب نگر کے موقع پر تقریباً 10 ہزار کروڑ روپئے ترقیاتی کاموں کا اعلان کریں گے اور ساتھ ہی نظام آباد میں 6 ہزار کروڑ روپئے کے ترقیاتی پروگرامس کا اعلان کریں گے ۔ بی جے پی ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ وزیر اعظم دورہ نظام آباد کے دوران ہلدی بورڈ کا بھی اعلان کرسکتے ہیں ۔ وزیر اعظم یکم اکٹوبر دورہ پر کھمم ، سوریہ پیٹ قومی شاہراہ 365 کو قوم کے نام معنون کریں گے ۔ وجئے واڑہ ، ناگپور اکنامک کاریڈار کے طور پر تعمیر ورنگل ، کھمم ، وجئے واڑہ ، نیشنل ہائی وے 163 گرین فیلڈ ایکسیس کنٹرول ہائی وے کے کاموں کا سنگ بنیاد رکھیں گے ۔ الیکشن کمیشن سے اکٹوبر کے پہلے ہفتہ میں انتخابی شیڈول جاری ہونے کی امید کی جارہی ہے ۔ جس کے پیش نظر تمام جماعتوں نے اپنی انتخابی تیاریوں میں شدت پیدا کردی ہے ۔ وزیر اعظم کے دورہ تلنگانہ کو کافی اہمیت حاصل ہوگئی ہے ۔ کیونکہ ایک دن کے وقفہ سے دو مرتبہ مودی تلنگانہ میں عوامی جلسوں سے خطاب کے علاوہ سرکاری تقاریب میں حصہ لیں گے ۔تلنگانہ میں بی جے پی کمزور موقف میں ہے ۔ پارٹی کے 10 اہم قائدین ابھی تک تین خفیہ اجلاس منعقد کرکے ناراضگی کا قومی قیادت کے سامنے اظہار کرچکے ہیں ۔ اس وقت تلنگانہ میں بی جے پی تین حصوں میں تقسیم ہے ۔ ایک گروپ کی جی کشن ریڈی دوسرے گروپ کی بنڈی سنجے اور تیسرے کی ایٹالہ راجندر قیادت کر رہے ہیں ۔ قائدین میں اختلافاق اور گروپ بندیوں سے پارٹی کیڈر الجھن کا شکار ہے ۔ 10 سینئیر قائدین جن میں سابق ارکان پارلیمنٹ شامل ہیں ہائی کمان سے انہیں اہمیت نہ دینے پر سخت ناراض ہیں ۔ ن