نئی دہلی: 2014 میں لوک سبھا انتخابی مہم کے دوران قابل اعتراض تقریر کی وجہ سے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے معاملے کا سامنا کرنے والے دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کی درخواست پر سپریم کورٹ میں سماعت مئی تک کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔ دریں اثنا، سلطان پور کی عدالت میں اس کیس سے متعلق سماعت بدستور روکی رہے گی۔ اروند کیجریوال نے الہ آباد ہائی کورٹ کی طرف سے اس کیس میں بری ہونے کی درخواست مسترد ہونے کے بعد راحت کے لیے سپریم کورٹ کا رخ کیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ 2014 میں انتخابی مہم کے دوران کیجریوال نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ بی جے پی کو ووٹ دینے والے کو بھگوان بھی معاف نہیں کرے گا۔ اس بیان کے بعد ان کے خلاف انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر عوامی نمائندگی ایکٹ کی دفعہ 125 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی۔