وزیر خارجہ جئے شنکر کی روسی ہم منصب سے بات چیت

   

ہند ۔ روس سالانہ چوٹی کانفرنس کی تیاریوں کا جائزہ، آئندہ ہفتہ مودی کی صدر روس کے ساتھ چوٹی کانفرنس مقرر

ماسکو ۔ /28 اگست (سیاست ڈاٹ کام) وزیر خارجہ ہندوستان ایس جئے شنکر اور وزیر خارجہ روس سرجیل لاروف کی چہارشنبہ کے دن بات چیت ہوئی اور آئندہ ہند ۔ روس چوٹی کانفرنس کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا ۔ علاوہ ازیں بین الاقوامی مسائل جو مشترکہ دلچسپی کے ہیں اور علاقائی مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے لاروف نے کہا کہ یوریشین معاشی یونین اور ہندوستان کے ایک آزاد تجارتی زون کی تشکیل کا جائزہ مکمل ہوچکا ہے ۔ تمام ضروری فرائض کی تکمیل ہوچکی ہے ۔ آج وزیراعظم مودی کے دورہ روس اور صدر روس ولادیمیر پوٹین کے ساتھ پانچویں سالانہ مشرقی ایشیائی فورم کے اجلاس میں بحیثیت مہمان خصوصی مودی کی شرکت کیلئے تیاریوں کا جائزہ لیا گیا ۔ یہ چوٹی کانفرنس روس کے شہر ولادی واسٹوک میں مقرر ہے بات چیت کی گئی ۔ گفتگو بالکل درست راستہ پر تھی ۔ خبررساں ادارہ طاس نے اس کی اطلاع دی ہے کہ پانچویں مشرقی معاشی فورم کی چوٹی کانفرنس ولادی واسٹوک میں /4 تا /6 ستمبر 2019 ء مقرر ہے ۔ آزادانہ تجارتی اور معاشی کوآپریشن حکومت ہند کے ساتھ اس کا اہم موضوع ہوگا ۔ آج تمام ضروری شرائط کی تکمیل کردی گئی تاکہ سرکاری مذاکرات کا خاتمہ آزادانہ تجارتی زون معاہدہ پر ہوسکے جو ای اے ای یو اور ہندوستان کے درمیان مکمل ہوجائے گا ۔ متعلقہ سودے بازی کے طریقہ کار کو ہندوستان اور ای اے ای یو کے درمیان تعاون کا ایک سنگ میل سمجھا جاسکتا ہے ۔ ای اے ای یو 5 ممالک کی ایک بین الاقوامی تنظیم ہے ۔ جس کے ارکان آرمینیا ، ویلاروس ، قازقستان ، کرغز جمہوریہ اور جمہوریہ روس ہیں ۔ یہ تنظیم 2015 ء میں قائم کی گئی تھی تاکہ معیشت کی مستحکم ترقی کیلئے راہ ہموار ہوسکے ۔ علاقائی رکن ممالک 180 ملین مالیتی زبردست تجارتی اضافہ کے امکانات رکھتے ہیں۔ لاروف نے کہا کہ جئے شنکر کے ساتھ ان کی بات چیت کئی واضح مسائل پر مرکوز تھی ۔

جن میں خاص مسائل پر ایک مخصوص نظام کے قائم کرنے کے کام میں مسلسل شدت پیدا کرنا بھی تھا ۔ شمال ۔ جنوب بین الاقوامی منتقلی راہداری تشکیل دینا تھا جو روس سے ایران تک براہ ہندوستان جائے گی ۔ وزیر خارجہ روس نے کہا کہ متعلقہ محکمہ بامعنی مشاورت اس موضوع پر جاری رکھیں گے ۔ جئے شنکر 2 روزہ دورہ روس پر منگل کے دن ماسکو پہونچے تھے ۔ ان کے دورہ کا مقصد وزیراعظم مودی کے دورہ روس کی تفصیلات طئے کرنا تھا ۔ پوری دنیا تبدیل ہوچکی ہے لیکن ہند۔روس روابط مستقل ہیں ۔ جئے شنکر نے اپنے ٹوئیٹر پر منگل کے دن یہ تبصرہ تحریر کیا تھا ۔ ان کی ملاقات نائب وزیراعظم روس یوری بورویسوف سے بھی مقرر ہے ۔ وہ مشیر قومی سلامتی اجیت دوول کے ساتھ روس کا دورہ کررہے ہیں اور مشیر قومی سلامتی روس نکولائی پیٹروشیف کے ساتھ اجیت دوول کی بات چیت مقرر ہے ۔
اس کا مقصد خودمختاری ، علاقائی یکجہتی اور تیسرے فریق کی عدم مداخلت کے اصولوں مستحکم بنانا ہے ۔ والدائی مباحثہ کلب میں ان اصولوں کو تقویت دینے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا جائے گا ۔ ہندوستان کی پالیسی میں ہند ۔ بحراوقیانوس ممالک کے درمیان تعاون کی اہمیت پر زور دیا جائے گا ۔ تبدیل ہوتی ہوئی دنیا نئے نظریات پیش کررہی ہے اور ہند ۔ بحرالکاہل روابط ان میں سے ایک ہے ۔ ہندوستان ، امریکہ اور دیگر کئی عالمی طاقتیں آزاد ، کھلی اور فروغ پذیر ہند ۔ بحرالکاہل پس منظر کے ساتھ ابھرتی ہوئی فوج کی اس علاقہ میں نقل و حرکت پر توجہ دے رہے ہیں ۔ چین بھی اپنے دفاعی وجود میں ہند ۔ بحرالکاہل علاقہ میں اضافہ کرنے کوشاں ہیں ۔ یہ علاقہ بحرہند کے ممالک ، مغربی اور وسطی بحرالکاہل کے ممالک اور جنوبی بحر چین ویتنام ، فلپائن ، روس ، برونی اور تائیوان جیسے ممالک پر مشتمل ہے ۔ جن میں سے ہر ایک کا دعویٰ سمندروں پر ہے ۔