(بی آر ایس کی مسلم دشمنی II )
وزیر سیاحت گوڑ اور کلکٹر کے تال میل سے کروڑوں کی وقف املاک کو خطرہ
حج ہاؤز کا تین مرتبہ سنگ بنیاد، رحمانیہ وقف اراضی و عیدگاہ پر شادی خانہ بنانے کی کوشش
مسلمانوں کو شہری علاقوں سے دور بسانے کی کوشش
حیدرآباد ۔11۔ جولائی (سیاست نیوز) ریاست کی سیاسی جماعتیں خاص طور پر حکمراں جماعت مسلم رائے دہندگان کی تائید و حمایت سے استفادہ کرتی ہیں ۔ ان کے ووٹوں کے بل بوتے پر اقتدار کے مزے لوٹتی ہے لیکن جب مسلمانوں کے مفادات کی بات آتی ہے تو بڑی بے شرمی کے ساتھ ایسے انجان بن جاتی ہیں جیسے مسلمانوں نے انہیں ووٹ ہی نہیں دیا ۔ اس معاملہ میں کچھ ریاستی وزراء اور حکمراں جماعت یعنی بی آر ایس کے ارکان اسمبلی جو کافی بدنام ہوچکے ہیں۔ ان کی دشمنی سب پر ظاہر ہوچکی ہے ۔ ایسے وزراء میں ریاستی وزیر نشہ بندی و آبکاری کھیل کود و خدمات نوجوانان و سیاحت اور ثقافت و آثار قدیمہ مسٹر وی سرینواس گوڑ سرفہرست میں ان کے بارے میں محبوب نگر کے مسلمانوں کی رائے یہی ہے کہ انہوں نے مسلم اقلیت کی بہبود و ترقی کیلئے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے ۔ مسلمانوں کو بیوقوف سمجھ کر انہیں باتوں دعوؤں اور غیر اہم اقدامات سے بہلانے پھسلانے کا نام کیا ہے۔ اس ضمن میں موصوف کے کچھ زر خرید غلام بھی ان کے ہاں میں ہاں ملاتے ہیں۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق مستقر محبوب نگر میں منسٹر سرینواس گوڑ اور کلکٹر کے ساتھ ساتھ ملت میں موجود ان کے دلالوں کے تال میل سے کروڑہا روپئے مالیتی اوقافی جائیداد خطرہ میں آگئی ہے ۔ جہاں تک سرینواس گوڑ کا سوال ہے ان کی مسلم دشمنی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے حج ہاؤز کا سنگ بنیاد ایک نہیں دو نہیں بلکہ تین مرتبہ رکھا ہے۔ ان کے بارے میں اب عوام یہ کہنے لگے ہیں کہ وہ ضلع کے مسلمانوں کے مسائل حل کرنے کے بجائے ان کیلئے مسائل پیدا کر رہے ہیں۔ مثال کے طورپر آپ کو بتادیں کہ عیدگاہ وقف رحمانیہ کی اراضی پر مسٹر سرینواس گوڑ نے شادی خانہ کا سنگ بنیاد رکھا ہے اور شادی خانہ دو ایکڑ اراضی پر محیط ہوگا ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر سرینواس گوڑ عیدگاہ کی موقوفہ اراضی کو اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کیلئے نشانہ بنارہے ہیں ۔ اگر انہیں اپنے مسلم رائے دہندوں کے مفادات سے دلچسپی ہوتی تو وہ سرکاری اراضی پر شادی خانہ کا سنگ بنیاد رکھ سکتے تھے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ اس ضمن میں مسلمانان محبوب نگر کے استفسار پر دارالافتاء جامعہ نظامیہ نے واضح طورپر فتویٰ دیا ہے کہ عیدگاہ کیلئے وقف اراضی منشاء واقف کے مطابق نماز عیدین کی ادائیگی کیلئے خاصی ہے، اس کو منشاء وقف کے برعکس دیگر اغراض کے لئے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ اس لئے عیدگاہ کی اراضی پر شادی خانہ یا کمیونٹی ہال وغیرہ وغیرہ تعمیر کرانا ازروئے شرع درست نہیں ہے ۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اس غیر شرعی حرکت میں جہاں سرینواس گوڑ کا بڑا عمل دخل ہے، وہیں بعض ضمیر فروش اور نام کے مسلمان بھی ملوث ہیں۔ واضح رہے کہ دو ماہ قبل عیدگاہ وقف رحمانیہ کیلئے کمیٹی تشکیل دی گئی اس کے موجودہ صدر تقی حسن تقی اور معتمد دونوں پر مقامی عوام کا الزام ہے کہ ان لوگوں نے وقف کامپلکس کے عقب میں ملگیات تعمیر کر کے ایک بلڈر کو فروخت کردیئے، آپ کو بتادیں کہ متحدہ ضلع محبوب نگر میں 9626.6 ایکڑ موقوفہ اراضی تھی جس میں سے بیشتر اراضیات پر ناجائز قبضہ کرلئے گئے ہیں اور اس کیلئے ضمیر فروش و ایمان فروش عناصر اور حکمراں جماعت کے لیڈر ان میں ملوث ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضرور ہوگا کہ محبوب نگر کے مشہور و معروف کنٹراکٹر عبدالرحمن خان نے 135 سال قبل عیدگاہ کیلئے 626.6 ایکڑ اراضی وقف کی تھی۔ سروے نمبر 1053 سے 152 ایکڑ اراضی میں سے مرحوم ابراہیم علی انصاری نے بحیثیت وزیر صحت 4 ایکڑ اراضی عیدگاہ کیلئے دی۔ 8 ایکڑ اراضی دفتر بلدیہ کیلئے اور 2 ایکڑ اراضی نرسمہا سوامی مندر کیلئے فراہم کی ۔ مسلمانان محبوب نگر کی کاوشوں سے مزید 10 ایکڑ اراضی عیدگاہ کیلئے حاصل کی گئی ۔ اس طرح فی الوقت عیدگاہ وقف رحمانیہ 14 ایکڑ اراضی پر محیط ہے ۔ دوسری طرف سرینواس گوڑ محبوب نگر کے قلب شہر میں حاجی غفار پٹرول پمپ کے عقب میں واقع اردو گھر جو 1000 مربع گز پر محیط ہے اسے مسلمانوں سے چھین کر ایس سی طبقہ کو دینا چاہتے ہیں اور اس سلسلہ میں انہوں نے ایس سی طبقہ سے وعدہ بھی کرلیا ہے ۔ آپ کو بتادیں کہ چندرا بابو نائیڈو کی زیر قیادت تلگو دیشم حکومت نے یہ اراضی الاٹ کی تھی اور خود چندرا بابو نائیڈو نے اس کا افتتاح انجام دیا تھا ۔ جہاں تک عیدگاہ کی اراضی پر شادی خانہ کی تعمیر کا سوال ہے ، محبوب نگر کے مسلمان چاہتے ہیں کہ سرینواس گوڑ کے اشاروں پر ناچنے والی کمیٹی کو فوری تحلیل کر کے دیانتدار شخصیتوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے ۔ بہرحال اگلی رپورٹ میں ہم آپ کو سرینواس گوڑ اور ان کے چمچوں کے دوسرے کارناموں اردو گھر ، حج ہاؤز کے ساتھ ساتھ مسلمانان محبوب نگر سے کئے گئے وعدوں کی عدم تکمیل کے بارے میں بتائیں گے۔