نہرو اور پاکستان کی بات کرنے والے مودی کو ملک کے بیروزگار نوجوانوں کی فکر نہیں
نئی دہلی ۔ 6 ۔ فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی پر شدید تنقید کی کہ وہ بیروزگاری کے اصل مسئلہ پر ہی بات نہیں کررہے ہیں ، ان کی یہ خاموشی تشویشناک ہے ۔ وزیراعظم مودی صرف جواہر لال نہرو سے لیکر پاکستان تک کے مسائل کو اُٹھاتے ہیں یہ باتیں سن سن کر عوام ’’ بیزار ‘‘ آچکے ہیں عوام کو روزگار چاہئے جبکہ مودی کو ملک کے بیروزگار نوجوانوں کی فکر ہی نہیں ہے۔ لوک سبھا میں صدرجمہوریہ کے خطاب پر تحریک تشکر میں بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم کے تقریر کے بعد راہول گاندھی نے ایوان میں دونوں وزیراعظم مودی اور وزیرفینانس نرملا سیتا رامن نے لمبی لمبی تقریریں کی ہیں لیکن وہ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرے یہ جواب دینے میں ناکام رہے ہیں ۔ اس ملک کے تمام نوجوان تعلیم اسکول ، کالج اور یونیورسٹی کے بعد کیا چاہتے ہیں اس کا مودی حکومت کو کوئی خیال نہیں ہے ۔ نوجوان اپنی تعلیم کے بعد روزگار چاہتے ہیں ۔ مگر وزیراعظم سے پوچھتے ہیں کہ آیاانہوں نے نوجوان کو کتنا دروزگار دیا ۔ مودی نے دیڑھ گھنٹہ کی تقریر کی ہے لیکن اس میں دو منٹ بھی روزگار سے متعلق نوجوانوں کے بارے میں کچھ نہںی کہا ۔ آخر آپ کی حکومت نے نوجوانوں کیلئے کیا کیا ؟ اس ملک کا نوجوان دیکھ رہاہ ے کہ وزیراعظم جواب نہیں دے سکتے ۔ کانگریس کے سابق صدر نے پارلیمنٹ کے باہر اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم مودی نے پارلیمنٹ میں طویل تقریر کی ہے مگر یہ تقریر نوجوان کیلئے مایوس کن تھی ۔ یہ حکومت پہلے معیشت ، میک ان انڈیا ، پانچ کھرب امریکی ڈالر کی بات کرتی تھی لیکن اب وزیراعظم ان بڑے مسائل کے بارے میں بات نہیں کرتے ۔ آج ملک کو کئی مسائل کا سامنا ہے لیکن مودی نے خاموشی اختیار کرلی ہے ۔ اصل موضوعات پر اظہار خیال کے بجائے وہ دیگر چیزوں پر بول رہے ہیں اس سے عوام بیزار آچکے ہیں ۔ مودی کی تقریر میں کانگریس نہرو سے لیکر پاکستان اور بنگلہ دیش ہی ملے گا مودی کا یہ طرز تخاطب ملک کو تباہ کن مستقبل کی طرف ڈھکیل رہا ہے ۔ وزیراعظم براہ کرم اصل مسئلہ پر بات کریں ۔ ملک کے نوجوانوں کو بتائیں کہ آپ نے ان کے روزگار کیلئے کیا کام انجام دیئے ہیں لیکن مودی حکومت کے ساڑھے پانچ سال گذر چکے ہیں لیکن روزگار دینے کے بجائے ان کی پالیسیوں کی وجہ سے گزشتہ سال یہ ایک کروڑ نوجوان روزگار سے محروم ہوگئے اس پر وہ ایک لفظ بھی بولنے سے قاصر ہیں۔