سی پی آئی کی 96 ویں یوم زراعت تقریب سے قومی قائد ایس سدھاکر ریڈی کا خطاب
حیدرآباد : سی پی آئی کے قائد ایس سدھاکر ریڈی نے مرکزی حکومت کے زرعی قوانین کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے بزنسمین دوستوں اڈانی، امبانی کو فائدہ پہنچانے کیلئے یہ قوانین بنائے ہیں۔ مخدوم بھون میں منعقدہ 96 ویں یوم زراعت سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ قبل از انہوں نے سی پی آئی کا پرچم لہراتے ہوئے تقاریب کا آغاز کیا۔ اس موقع پر سکریٹری تلنگانہ سی پی آئی چاڈا وینکٹ ریڈی، پی وینک ریڈی، سابق راجیہ سبھا عزیز پاشاہ کے علاوہ دوسرے قائدین موجود تھے۔ ایس سدھاکر ریڈی نے وزیراعظم نریندر مودی کو کارپوریٹ سرمایہ داروں کا چوکیدار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں کانگریس کے بعد سی پی آئی کی ہی ایک تاریخ ہے۔ ہل چلانے والے کی ہی اراضی کی جدوجہد سی پی آئی نے شروع کی تھی۔ جب تک عوام کے آنکھوں میں آنسو اور بھوک رہے گی اتنے ہی دن کمیونسٹ جماعتیں رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی نظام میں جیت اور ہار ایک عام بات ہے۔ سی پی آئی مرکزی حکومت کے نئے زرعی قوانین کی مذمت کرتی ہے اور ان قوانین سے دستبرداری تک اپنے احتجاج کو جاری رکھے گی۔ سی پی آئی کے قومی قائد نے کہا کہ 80 ہزار ٹرکس کے ساتھ لاکھوں کسان ان قوانین کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ مرکزی حکومت کسانوں کے احتجاج کا سامنا کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ احتجاجی کسانوں کے خلاف نت نئے الزامات عائد کرتے ہوئے احتجاج کو سبوتاج کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ کبھی انہیں فرضی کسان کررہی، کبھی انہیں خالصتانی دہشت گرد قرار دے رہی ہے تو کبھی ان کے تار پاکستان اور چین سے جوڑنے کی کوشش کررہی ہے جس کی وہ سخت مذمت کرتے ہیں۔ سی پی آئی کسانوں کے احتجاج کی مکمل تائید و حمایت کرتی ہے۔