ساؤتھ افریقہ اور بوتسوانا سے آمد، ٹیلیفون بند ہونے سے حکام کو مشکلات
حیدرآباد۔2 ۔ ڈسمبر (سیاست نیوز) ملک کی مختلف ریاستوں میں اومی کرون ویرینٹ کے امکانی خطرہ کے پیش نطر بیرونی ممالک سے آنے والے افراد پر کڑی نظر رکھی جارہی ہے۔ آندھراپردیش میں اگرچہ ابھی تک نئے ویرینٹ کا کوئی معاملہ منظر عام پر نہیں آیا لیکن گزشتہ چار دنوں میں ساؤتھ افریقہ ، بوتسوانا اور دیگر ممالک سے تقریباً 30 افراد وشاکھاپٹنم پہنچے۔ ضلع حکام نے ان تمام بیرونی مسافرین کا ٹسٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن مسافرین کی تفصیلات حکام کے پاس دستیاب نہیں جس کے باعث تشویش کی لہر دوڑ گئی ۔ کلکٹر وشاکھا پٹنم ڈاکٹر اے ملکارجن نے بتایا کہ بیرونی مسافرین میں صرف چند افراد کے ٹیلیفون نمبرس موجود ہیں جبکہ باقی مسافرین کا پتہ چلانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ اگر ان مسافرین میں کوئی نئے ویرینٹ کے متاثرہ ہوں تو پھر ویرینٹ پھیلنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے ۔ ضلع کلکٹر نے بتایا کہ بنگلور میں ساؤتھ افریقہ سے آنے والے دو مسافرین نے پازیٹیو پائے جانے کے بعد وشاکھاپٹنم میں چوکسی اختیار کرلی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بعض مسافرین ٹیلیفون کا جواب نہیں دے رہے ہیں جبکہ بعض دوسروں نے موبائیل فون بند رکھا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکام کسی بھی طرح تمام مسافرین کا پتہ چلاکر ان کا ٹسٹ کریں گے اور نمونوں کو حیدرآباد کے سی سی ایم بی روانہ کیا جائے گا ۔ ٹسٹ کا نتیجہ آنے میں 15 دن کا وقت لگ سکتا ہے ۔ کلکٹر نے کہا کہ تمام بیرونی مسافرین کا طیرانگا پر جامع ٹسٹ کیا جارہا ہے۔ ضلع میں کورونا ٹسٹوں کی تعداد میں اضافہ کردیا گیا۔ کلکٹر کے مطابق ضلع میں روزانہ 2200 سے زائد کورونا ٹسٹ کئے جارہے ہیں۔ ضلع میں کورونا ویکسین کی چار لاکھ خوراک دستیاب ہے۔ انہوں نے کہاکہ 18 سال سے کم عمر بچوں کی ٹیکہ اندازی اور بوسٹر ڈوز کے بارے میں مرکزی حکومت نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ نئے ویرینٹ سے بچاؤ کیلئے شاپنگ مالس، تقاریب ، مذہبی جاتراؤں ، ساحل سمندر ، اسکول اور کالجس میں احتیاطی تدابیر اختیارکرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ حکومت وشاکھاپٹنم سٹی کے علاوہ انکا پلی اور نرسی پٹنم میں کووڈ ٹسٹنگ سنٹرس کے قیام کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ر