پاور پوائنٹ بمقابلہ پبلک پوائنٹ پروگرام سے کے ٹی آر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 14 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز) : بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے ریاستی حکومت اور چیف منسٹر ریونت ریڈی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے پیسے نہیں ہے مگر موسیٰ ندی کی خوبصورتی کے نام پر تقریبا 1.5 لاکھ کروڑ روپئے خرچ کرنے کی بات کی جارہی ہے ۔ کے سی آر تلنگانہ کی ترقی اور تعمیر کی بات کرتے تھے وہی کانگریس کی حکومت تباہی کی سیاست کررہی ہے ۔ آج کے ٹی آر نے پاور پوائنٹ بمقابلہ پبلک پوائنٹ کے عنوان سے ایک پروگرام کا انعقاد کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ماضی میں کانگریس حکومت نے ہی موسیٰ ندی کو آلودہ نالے میں تبدیل کیا تھا ۔ کانگریس حکومت اپنے ماضی کی غلطیوں پر پہلے عوام سے معذرت خواہی کریں ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ کے سی آر کے دور حکومت میں موسیٰ ندی کو صاف کرنے اور اسے دوبارہ بحال کرنے کے لیے اقدامات کئے گئے تھے ۔ چند اداروں کی جانب سے موسیٰ ندی کے اطراف چند مکانات کو منہدم کرنے کی تجویز دی تھی ۔ مگر اس وقت کے چیف منسٹر کے سی آر واضح کیا تھا کہ جہاں تک ممکن ہوسکے عوام کے مکانات کو نقصان پہونچائے بغیر منصوبہ تیار کیا جائے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت پانچ کلو میٹر کے ایک پراجکٹ پر تقریبا 400 کروڑ روپئے کی لاگت سے کام شروع کیا گیا تھا اور ایک بھی گھر منہدم نہیں کیا گیا ۔ مگر کل چیف منسٹر ریونت ریڈی نے جو پاور پوائنٹ پیش کیا ہے جس سے موسیٰ ندی کے اطراف و اکناف رہنے والے عوام میں ڈر و خوف پیدا ہوگیا ہے ۔ کے ٹی آر نے چیف منسٹر ریونت ریڈی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ کوڑنگل میں ریونت ریڈی کا اپنا گھر ایف ٹی ایل کے حدود میں ہے ؟ کیا یہ درست نہیں ہے کہ چیف منسٹر کے بھائی تروپتی ریڈی کا درگم چیرو میں واقع مکان ایف ٹی ایل کے دائرہ کار میں آتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چند وزراء اور بعض کانگریس قائدین کے مکانات بفر زون اور ایف ٹی ایل کے حدود میں تعمیر نہیں کئے گئے ۔۔ 2