کورٹلہ میں غیر مجاز تعمیرات اور قابضین کے خلاف کارروائی کا انتباہ، وقف اراضی کی حصار بندی کیلئے فنڈس کی اجرائی کا وعدہ
کورٹلہ : کورٹلہ ٹاؤن کی وقف اراضی کا تحفظ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کورٹلہ کے مسلم نوجوانوں اورمسلم قائدین کی منی مسجد کے ممبرس کی جانب سے گذشتہ چند دنوں سے کورٹلہ میں احتجاج کیا جارہا ہے۔ اس ضمن میں مسلمانان کورٹلہ کی جانب سے 11 جنوری کو ڈپٹی تحصیلدار کورٹلہ کو، 12 جنوری کو ڈسٹرکٹ کلکٹر جگتیال کو اور 13 جنوری کو کلواکنٹلہ ودیا ساگر راؤ رکن اسمبلی کورٹلہ کو یادداشت پیش کی گئی۔ کے ودیا ساگر راؤ رکن اسمبلی کورٹلہ سے دفتر ایم ایل اے کوارٹر میں مسلمانان کورٹلہ نے کانگریس، ٹی آر ایس کے کونسلروں، ایم آئی ایم کے علاوہ مسلم نوجوانوں کی کثیر تعداد پر مشتمل وفد نے ملاقات کرتے ہوئے بتایا کہ کورٹلہ ٹاؤن کے مدولہ چیرو سے منسلک سروے نمبر1409(A) میں 1.26 گنٹے، 1412(A) سروے نمبر میں0.33 گنٹے اراضی، سروے نمبر 1465(A) میں 5.25 گنٹے ڈائی لینڈ درگاہ سے متعلقہ اراضی جو وقف بورڈ کی ملکیت ہے، چند افراد فروخت کررہے ہیں، مسلم نوجوانوں نے رکن اسمبلی کورٹلہ سے حضرت بدر الدین شاہؒ درگاہ سے متعلقہ وقف بورڈ کی اراضی پر ناجائز قبضوں کی برخواستگی کرنے اور اراضی پر ناجائز تعمیرات کو رکوانے کی اپیل کی۔ وقف بورڈ کی متعلقہ اراضی کا تحفظ کرنے کی اپیل کی۔ حضرت بدر الدین شاہ ؒ درگاہ کی اراضی کو رئیل اسٹیٹ کے چند افراد اور عہدیداروں کے ساتھ ساز باز کرتے ہوئے فروخت کررہے ہیں۔ جناب محمد وسیم کانگریس قائد ، جناب خالد، جناب سید فہیم الدین صدر ٹی آر ایس پارٹی اقلیتی سیل کورٹلہ نے رکن اسمبلی کورٹلہ جناب کے ودیا ساگر راؤ کو وقف بورڈ کی اراضی سے متعلق واقف کرواتے ہوئے کہا کہ وقف اراضی جو مسلمانوں کی ملکیت ہوتی ہے اس اراضی کو فروخت کرنے کا کسی کو بھی حق حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے رکن اسمبلی سے وقف اراضی پر قابض افراد کے خلاف کارروائی کرنے اور خانگی افراد جو اپنے نام کرلئے ہیں ان خانگی افراد کے نام منسوخ کرتے ہوئے حضرت سید بدرالدین درگاہ کے نام آن لائن اندراج کرنے کی اپیل کی۔ کلواکنٹلہ ودیا ساگر رکن اسمبلی نے مسلم قائدین کو تیقن دیا اور کہا کہ وقف اراضی جو مسلمانوں کی ملکیت ہوتی ہے اس اراضی کو فروخت کرنے اور اس اراضی پر ناجائز تعمیرات کروانے کا کسی کو بھی اختیار حاصل نہیں۔ انہوں نے اس اراضی کو فروخت کرنے والے اور اس اراضی پر ناجائز تعمرات کروانے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا انتباہ دیا۔ انہوں نے مسلم قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ کورٹلہ کی سطح پر کورٹلہ کی تمام مساجد سے فی کس دو ممبرس کا انتخاب کرتے ہوئے کورٹلہ ٹاؤن کی سطح پر ایک کمیٹی تشکیل دیں اور اس کمیٹی کی نگرانی میں وقف اراضی کی باونڈری وال تعمیر کروتے ہوئے اس اراضی کا تحفظ کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقف اراضی پر مسلمانان کورٹلہ کی جانب سے جو بھی تعمیراتی کام انجام دیئے جائیں گے ان کاموں کی انجام دہی کیلئے حکومت کی جانب سے فنڈ کی اجرائی کے سلسلہ میں حکومت سے نمائندگی کرنے کا تیقن دیا۔ نامہ نگار سیاست کورٹلہ کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں رکن اسمبلی مسٹر کے ودیا ساگر راؤ نے کہا کہ وقف اراضی پر قابض افراد کا چاہے وہ ٹی آر ایس پارٹی کا کونسلر ہی کیوں نہ ہو اور کسی بھی رتبہ کا حامل فرد ہی کیوں نہ ہو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔اس موقع پر کونسلرس مجلس بلدیہ کورٹلہ جناب محمد انور، جناب صابر علی ٹی آر ایس پارٹی قائدین بابا ، رحیم، ثناء الدین ، محمد عبدالرؤف صدر جامع مسجد کورٹلہ کے علاوہ منی مسجد کے ممبرس اور مسلم نوجوانوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔
