’وقف اصلاحات کا مقصد کسی بھی قانونی مذہبی مقام یا فریضہ کو روکنا نہیں ہے‘

   

وارانسی میں بی جے پی رکن سازی سمیلن سے سابق وزیر و بی جے پی کے سینئر قائد مختار عباس نقوی کا خطاب

وارانسی: بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر و سابق مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے پارلیمنٹ میں آئے وقف ترمیمی بل کا ذکر کرتے ہوئے وقف اصلاحات کسی بھی ویلڈ مذہبی مقام یا مذہبی فریضہ کو روکنے کے لئے نہیں بلکہ موجود وقف سسٹم کے تئیں عدم اعتماد کے ماحول کو اعتماد میں تبدیل کرنے کے لئے ہے ۔نقوی نے یہاں بی جے پی رکن سازی سمیلن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وقف نظام کی غیر آئینی لاقانونیت کو آئینی عزم پر فرقہ وارانہ وار سے محتاط رہنا ہوگا۔ وقف اصلاحات کسی بھی قانونی مذہبی مقام یا مذہبی فریضہ کو روکنے کے لئے نہیں بلکہ موجود وقف سسٹم کے تئیں عدم اعتماد کے ماحول کو اعتماد میں تبدیل کرنے کے لئے ہے ۔نقوی نے کہاکہ اقلیتوں خاص کر مسلمان بی جے پی سے الرجی کومخالفین کی انرجی بنانے سے بچیں اور سیاسی سمجھداری سے شمولیتی باختیاری کا راستہ منتخب کریں۔انہوں نے کہا’دہائیوں سے بی جے پی سے د وری کو مسلمانوں کی مجبوری بنا کر کچھ جاگیردار سیاسی رہنما’ہندوتوا کا خوف’ اسلامو فوبیا کے بھوکال کے بھنور جال سے متاثر قومی۔قوم پرست سیاسی پارٹی کے تئیں اچھوت اور عدم برداشت کے رواج۔ مزاج ہندوستانی مسلمانوں کی سماجی، معاشی ،تعلیمی بااختیاری میں رکاوٹ ثابت ہوئی ہیں۔نقوی نے کہا کہ کچھ سیاسی جاگیردار صوبیدار کے آئین، جمہوریت، سیکولرزم اور اقلیتوں پر خطرے کے ہارر شو کا مقصد ملک کے دلتوں، کمزورطبقات، پچھڑوں اور اقلیتوں کی ترقی کو قومی دھارے سے الگ تھلگ کرنے کی سوچ اور سازش سے پر ہے ۔ تاکہ ان کی غریبی۔ پچھڑے پن کو سیاسی ہراسانی کا اسلحہ بنا کر اپنا سیاسی سامراج محفوظ رکھ سکیں۔نقوی نے کہا کہ مسلمانوں کا بی جے پی کے ساتھ آنکھ مچولی کا کھیل، ہرفن مولا خاندانی کھلاریوں کا کھلونا بن گئی ہے ۔ جس کا نتیجہ ہے کہ مبینہ سیاسی سیکولر سنڈیکیٹ مسلم ووٹوں کے جاگیردار۔ ٹھیکیدار بن بیٹھے ہیں۔نقوی نے کہا کہ دہائیوں سے چلے آرہے مسلمانوں کے بی جے پی ہراؤ رواج کو بی جے پی جتاؤ مزاج میں تبدیل کرنے کے لئے ہمیں سماج میں پیدا کئے گئے خوف و ہراس کو بھروسے میں تبدیل کرنے کے لئے حتی المقدار کوشش کرنا ہوگا۔ ہمیں فخر سے کہنا ہوگا کہ جب بی جے پی نے کسی کی ترقی میں کمی نہیں کی تو وسواس میں کنجوس ناجائز ہے ۔نقوی نے کہا کہ بی جے پی اور مودی۔ یوگی نے خوشامد کے سیاسی دھوکے کو بااختیاری کے شمولیتی قوت سے نیست و نابو کر شمولیتی ترقی۔بااختیاری کی ترجیح سے ترقی اور وکاس کا پختہ ماحول اور عالمی سطح پر ہندوستان کے رسوخ کو مضبوط کیا ہے ۔نقوی نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی، نہرو،اندرا جی سے زیادہ جمہوری اقدار، آئینی حدود اور سیکولر قرار دار کے جھنڈابردار ہیں ا سکے لئے کسی سیاسی سیکولر سنڈیکیٹ کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہے ۔