کروڑہا روپئے کے کرائے باقی، 42 ملازمین کو ترقی، کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت
حیدرآباد ۔4۔ مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ میں ملازمین کو بروقت ترقی دی جارہی ہے لیکن وقف بورڈ کی کارکردگی میں بہتری اور آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ ملازمین مقررہ وقت پر ترقی حاصل کرنے کیلئے بورڈ پر دباؤ بنانے میں کامیاب ضرور ہیں لیکن انہیں بورڈ کی آمدنی میں اضافہ پر بھی توجہ دینی چاہئے ۔ گزشتہ دنوں تقریباً 42 ملازمین اور عہدیداروں کو ترقی دی گئی جس کے نتیجہ میں ان کی تنخواہوں میں غیر معمولی اضافہ ہوجائے گا۔ وقف بورڈ کی موجودہ صورتحال آمدنی کم اور خرچ زیادہ کی طرح ہے۔ 2014 سے بورڈ کی آمدنی عملاً منجمد ہوچکی ہیں اور کسی نے آمدنی میں اضافہ کیلئے ٹھوس قدم نہیں اٹھائے۔ ملازمین کی ترقیوں سے کسی کو اعتراض نہیں ہوسکتا لیکن اگر بورڈ کی کارکردگی میں بہتری پیدا کی جائے تو ترقی کا جواز مزید مستحکم ہوسکتا ہے ۔ وقف بورڈ سے رجوع ہونے والے افراد کو اپنے کاموں کے سلسلہ میں جن تلخ تجربات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، اس کا اندازہ دوسرے افراد کو نہیں ہوسکتا ۔ بورڈ کی منطوری سے 6 سپرنٹنڈنٹس کو اسسٹنٹ سکریٹری کے عہدہ پر ترقی دی گئی جبکہ 4 سینئر اسسٹنٹس کو سپرنٹنڈنٹ کے عہدے پر ترقی دی گئی ۔ 26 جونیئر اسسٹنٹس کو سینئر اسسٹنٹس کا عہدہ دیا گیا ۔ کمپیوٹر سیکشن کے 6 جونیئر اسسٹنٹس کو سینئر اسسٹنٹس کے عہدہ پر ترقی دی گئی۔ یہ ترقیاں اگرچہ وقف ایکٹ کے مطابق ہیں لیکن بورڈ میں عہدوں کے لئے قابلیت کا کوئی لزوم نہیں جس کا اندازہ ترقی حاصل کرنے والے عہدیداروں اور ملازمین کی قابلیت سے ہوتا ہے ۔ جن 4 سپرنٹنڈنٹس کو اسسٹنٹ سکریٹری کے عہدہ پر ترقی دی گئی ، ان میں سے صرف ایک گریجویٹ ہے جبکہ ایک انٹر اور دو صرف ایس ایس سی تک تعلیمی قابلیت رکھتے ہیں۔ سپرنٹنڈنٹ کے عہدہ پر ترقی پانے والے چار ملازمین میں دو کی تعلیمی قابلیت دسویں جماعت تک ہے۔ سینئر اسسٹنٹ کے عہدہ پر ترقی پانے والے 26 جونیئر اسسٹنٹ میں زیادہ تر کی قابلیت کچھ زیادہ نہیں ہے۔ بورڈ کے مستقل ملازمین کی تعداد تقریباً 130 ہے جبکہ تقریباً 50 عارضی اور ڈیلی ویجس پر کام کرنے والے ملازمین ہیں۔ بورڈ کے ذمہ داروں کو احساس ہے کہ اگر ملازمین اپنی ترقی کے ساتھ ساتھ بورڈ کی آمدنی میں اضافہ پر توجہ دیں اور اپنی کارکردگی بہتر بنائیں تو نہ صرف بورڈ کی نیک نامی ہوگی بلکہ قوم کے لئے وقف کردہ اوقافی جائیدادوں کا تحفظ ہوگا۔ 2014 ء میں اس وقت کے اسپیشل آفیسر شیخ محمد اقبال آئی پی ایس نے کرایوں میں اضافہ کیلئے تمام کرایہ داروں کو نوٹس جاری کی تھی۔ اس کے بعد سے بورڈ میں عہدیدار تبدیل ہوتے رہے جس کا فائدہ کرایہ داروں کو ہوا ۔ بتایا جاتا ہے کہ کرایہ داروں میں 2014 سے کرایہ کی ادائیگی روک دی ہے اور وہ پرانا کرایہ بھی ادا کرنے تیار نہیں ہے ۔ شہر اور اضلاع میں وقف بورڈ کے کئی ایسے کامپلکس ہے جہاں سینکڑوں کی تعداد میں ملگیات ہیں لیکن ان کا کرایہ محض چند سو روپئے ہے جبکہ وہاں مارکٹ ویلیو کے اعتبار سے ہزاروں کا کرایہ حاصل ہوسکتا ہے۔ حیدرآباد کے علاوہ کریم نگر ، نظام آباد ، ورنگل ، نلگنڈہ ، محبوب نگر اور عادل آباد میں اوقافی کامپلکسوں سے سالانہ کئی کروڑ کی آمدنی ہوسکتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف انسپکٹرس اور بورڈ کے دیگر عہدیداروں نے آمدنی میں اضافہ اور کرایہ وصولی میں کبھی بھی دلچسپی نہیں دکھائی ۔ کئی مقامات پر کرایہ داروں اور وقف بورڈ کے ملازمین میں ملی بھگت کے معاملات منظر عام پر آئے ہیں ۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم آمدنی میں اضافہ کے لئے ہفتہ میں دو مرتبہ وقف انسپکٹرس اور متعلقہ عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کر رہے ہیں لیکن آمدنی میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا۔ وقف جائیدادوں کے کرایہ کے علاوہ وقف فنڈ کی وصولی میں عہدیداروں کی عدم دلچسپی بورڈ کی کارکردگی کو متاثر کر رہی ہے۔ محمد سلیم وقف بورڈ کو منافع بخش ادارہ میں تبدیل کرتے ہوئے زائد آمدنی سے مسلمانوں کیلئے فلاحی کام انجام دینا چاہتے ہیں۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب بورڈ کے تمام عہدیدار اور ملازمین دیانتداری اور ایمانداری کے ساتھ فرائض انجام دیں ۔