عوام کو مشکلات،طلاق ثلاثہ قانون کا بہانہ، مفتیان کرام سے رائے حاصل کرنے کی ضرورت
حیدرآباد۔/5 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) مرکز کی جانب سے طلاق ثلاثہ پر پابندی سے متعلق قانون کی منظوری کے بعد تلنگانہ وقف بورڈ نے طلاق اور خلع کے سرٹیفکیٹس کی اجرائی کو روک دیا ہے جس سے عوام کو دشواریوں کا سامنا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اگرچہ حکومت کی جانب سے اس سلسلہ میں باقاعدہ کوئی ہدایت جاری نہیں کی گئی لیکن چیف ایکزیکیٹو آفیسر کی زبانی ہدایت پر شعبہ قضأت نے سرٹیفکیٹس کی اجرائی کو روک دیا ہے۔ خلع اور طلاق کے سرٹیفکیٹس کیلئے روزانہ عوام وقف بورڈ کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں لیکن انہیں کوئی خاطر خواہ اور اطمینان بخش جواب نہیں دیا جارہا ہے۔ بیرون ملک سفر، پاسپورٹ کی تیاری اور دیگر سرکاری اُمور کے سلسلہ میں خواتین اور بچوں کو اس سرٹیفکیٹ کی ضرورت پڑتی ہے اور وقف بورڈ کے سرٹیفکیٹ کے بغیر پاسپورٹ حکام ناموں کی تبدیلی سے انکار کرتے ہیں۔ ایسے میں ضرورتمند افراد کو وقف بورڈ سے سہولت کے بجائے اُلٹا زحمت میں مبتلاء کردیا گیا ہے اور وہ جب تک سرٹیفکیٹ جاری نہ کرے اسوقت تک سفری دستاویزات اور پاسپورٹ وغیرہ کی تیاری ممکن نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پارلیمنٹ میں طلاق ثلاثہ بل کی منظوری کے بعد جو گزٹ جاری کیا گیا تھا اس کی بنیاد پر وقف بورڈ نے یہ فیصلہ اپنے طور پر کرلیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خلع سرٹیفکیٹ کی اجرائی میں حکومت کا نیا قانون کوئی رکاوٹ نہیں ہے کیونکہ یہ خاتون کی جانب سے حاصل کیا جاتا ہے اور اس کا طلاق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ حکومت نے طلاق ثلاثہ پر پابندی عائد کی ہے اور از روئے شریعت اگر کوئی شخص ایک طلاق بھی دے تو عدت کی مدت گزرنے تک رجوع نہ کرنے کی صورت میں وہ دو طلاق میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ اگر قاضی حضرات طلاق دینے والے شخص سے یہ حلف نامہ حاصل کرلیں کہ اس نے ایک طلاق دی ہے تو اس کی بنیاد پر وقف بورڈ باآسانی سرٹیفکیٹ جاری کرسکتا ہے جس میں یہ صراحت کی جاسکتی ہے کہ یہ طلاق ثلاثہ نہیں ہے۔ اسی طرح قاضی کی جانب سے وقف بورڈ کو روانہ کئے جانے والے دستاویزات میں وضاحت سے طلاق کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے میں آسانی ہوسکتی ہے۔ یہ طریقہ کار عوام کو دشواریوں سے باآسانی بچاسکتا ہے لیکن وقف بورڈ کے حکام کو اس کی کوئی فکر نہیں ہے اور وہ ضروری ترمیمات کے بجائے طلاق اور خلع کے سرٹیفکیٹس کو جاری کرنے سے صاف طور پر انکار کررہے ہیں۔ کئی درخواست گذاروں نے بتایا کہ انہیں پاسپورٹ میں بچوں کے والد کے نام تبدیل کرنے میں دشواری ہورہی ہے کیونکہ پاسپورٹ آفس وقف بورڈ کے صداقت نامہ کا مطالبہ کررہا ہے۔ اسی طرح بیرون ملک روانگی کیلئے ویزا کے حصول کے سلسلہ میں بھی خواتین اور بچوں کو دشواریاں ہورہی ہیں۔ اگر وقف بورڈ خلع اور طلاق احسن کے سرٹیفکیٹ جاری کرے تو اس سے مرکزی قانون کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوگی۔ لیکن وقف بورڈ کے حکام اس بات کو سمجھنے کیلئے ہرگز تیار نہیں ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس بارے میں وقف بورڈ کی اسٹینڈنگ کونسل سے قانونی رائے حاصل کی گئی تھی لیکن انہوں نے یہ کہتے ہوئے اس معاملہ کو واپس کردیا کہ سرٹیفکیٹس کی اجرائی کے سلسلہ میں حکومت سے وضاحت طلب کی جائے۔ وقف بورڈ میں قضأت پر عبور رکھنے والے افراد کے علاوہ شہر میں دینی ادارے اور مفتیان کرام موجود ہیں اور وقف بورڈ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسئلہ کو اُن سے رجوع کرتے ہوئے عوام کی مشکلات کا حل تلاش کرے۔ واضح رہے کہ وقف بورڈ سے میریج، خلع، طلاق اور مذہب کی تبدیلی کے سرٹیفکیٹس جاری کئے جاتے ہیں۔