وقف بورڈ عہدیداروں کی درگاہ کے ٹنڈر گذار سے ملی بھگت

   

چھ ماہ کی رقم میں ایک سال کی آمدنی، صدر نشین محمد سلیم نے راست نگرانی میں لینے کی ہدایت دی
حیدرآباد۔/19 ستمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ میں عہدیداروں کی ملی بھگت کے ذریعہ مکمل رقم ادا کئے بغیر درگاہ کی آمدنی حاصل کرنے کا ایک معاملہ منظر عام پر آیا۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے درگاہ کے انتظامات کو وقف بورڈ کی راست نگرانی میں لینے کی ہدایت جاری کی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ بورڈ کے عہدیداروں نے ٹنڈرگزار کی جانب سے 6 ماہ گزرنے کے باوجود مکمل رقم ادا نہ کرنے اور اس بارے میں ہائی کورٹ کے فیصلہ سے چیف ایکزیکیٹو آفیسر اور صدرنشین کو واقف نہیں کرایا۔ یہ معاملہ درگاہ انارم شہید ورنگل کا ہے۔ اگر حقائق منظر عام پر نہ آتے تو ٹنڈر گذار باقی چھ ماہ کی رقم ادا کئے بغیر ہی ایک سال تک خدمات انجام دیتے ہوئے منافع حاصل کرلیتا۔ بتایا جاتا ہے کہ چھ ماہ قبل انارم شہید درگاہ کے انتظامات کا ہراج ہوا اور قواعد کے مطابق جسے ٹنڈر الاٹ کیا گیا اس نے 50فیصد رقم ادا کی اور باقی رقم اندرون دو ماہ جمع کرنے کا وعدہ کیا۔ چھ ماہ گزرنے کے باوجود باقی رقم ادا نہیں کی گئی۔ وقف بورڈ نے ٹنڈر گذار سے پوسٹ ڈیٹیڈ چیک حاصل کرلئے تھے لیکن بورڈ کے عہدیداروں نے یہ چیک بینک میں جمع نہیں کرائے۔ اسی دوران دوسرے ٹنڈر گذار نے عدالت سے رجوع ہوکر شکایت کی کہ قواعد کے مطابق منظورہ ٹنڈر گزار کو اندرون تین یوم رقم جمع کرنی ہے لیکن اس نے رقم جمع نہیں کی لہذا انتظامات کا ٹنڈر اسے الاٹ کیا جائے۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلہ میں وقف بورڈ کو ہدایت دی کہ وہ دوسرے نمبر کے درخواست گذار سے بات کرے اور اگر وہ پہلے منظورہ ٹنڈر گذار کے مطابق رقم کی ادائیگی کیلئے تیار ہو تو اسے انتظامات سپرد کئے جائیں۔ عدالت کے فیصلہ سے سی ای او اور صدرنشین کو تاریکی میں رکھا گیا۔ گزشتہ دنوں یہ معاملہ منظر عام پر آتے ہی صدر نشین وقف بورڈ محمد سلیم نے عہدیداروں پر برہمی ظاہر کی اور ان کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کی ہدایت دی۔ صدرنشین کی ہدایت پر آج درگاہ شریف کے انتظامات وقف بورڈ نے اپنی راست نگرانی میںحاصل کرلئے ہیں کیونکہ ٹنڈر گذار نے صرف 6 ماہ کی رقم داخل کی ہے اور چھ ماہ کی مدت آج ختم ہوگئی۔ وقف بورڈ نے دوسرے ٹنڈر گذار کو بات چیت کیلئے مدعو کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اگر وہ ٹنڈر کے مطابق رقم یکمشت جمع کرنے تیار ہوجائے تو انتظامات سپرد کئے جاسکتے ہیں۔ اگر یہ معاملہ منظر عام پر نہ آتا تو وقف بورڈ ٹنڈر کی نصف رقم سے محروم ہوجاتا۔