300 ملازمین کو فروری کی تنخواہ نہیں ملی ، حکومت اور بینک سے مشاورت کا شاہنواز قاسم نے تیقن دیا
حیدرآباد۔16۔ مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کے ملازمین کو نئے صدرنشین کا بے چینی سے انتظار ہے۔ وقف بورڈ سے زیر تکمیل مسائل کیلئے متولیوں اور کمیٹیوں کی جانب سے نئے صدرنشین کے انتظار کی بات سمجھ میں آتی ہے لیکن ملازمین کو نئے صدرنشین کا آخر بے چینی سے انتظار کیوں ہے۔ معلومات کرنے پر پتہ چلا کہ ملازمین 16 دن گزرنے کے باوجود فروری کی تنخواہ سے محروم ہے۔ عام طور پر ہر ماہ کی پہلی یا دوسری تاریخ کو وقف بورڈ ملازمین کی تنخواہیں ان کے اکاونٹ میں جمع کرادی جاتی ہیں لیکن اس مرتبہ 16 دن گزر گئے لیکن اکاؤنٹ میں رقم نہیں پہنچی۔ بتایا جاتا ہے کہ تنخواہوں کی اجرائی کے سلسلہ میں بینک سے رقم وڈرا کرنے کیلئے صدرنشین اور چیف اگزیکیٹیو آفیسر کو دستخط کا اختیار حاصل ہے۔ گزشتہ ماہ 23 تاریخ کو صدرنشین محمد سلیم کی میعاد ختم ہوگئی اور آخری ہفتہ میں وقف بورڈ کے چار زمروں کے ارکان کا الیکشن بھی مکمل ہوگیا۔ ملازمین کو یقین تھا کہ ارکان کے الیکشن کے فوری بعد حکومت نامزد ارکان اور صدرنشین کا تقرر کردے گی لیکن انہیں مایوسی ہوئی۔ حکومت کی جانب سے صدرنشین اور نامزد ارکان کے ناموں کو قطعیت دینے میں تاخیر کا خمیازہ وقف بورڈ کے 300 سے زائد ملازمین کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب ملازمین دو ہفتوں سے زائد تک تنخواہ سے محروم رہے۔ کئی ملازمین کو بینکوں اور دیگر اداروں کو ماہانہ اقساط ادا کرنا باقی ہے اور بروقت عدم ادائیگی کی صورت میں پینالٹی عائد کی جاتی ہے۔ کئی ملازمین اپنے روز مرہ کی ضرورتوں کی تکمیل کیلئے قرض حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ اب جبکہ رمضان المبارک کا آغاز قریب ہے، ملازمین کو رمضان کی ضروری خریداری خاص طور پر اناج کے حصول میں دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ ملازمین کی جانب سے چیف اگزیکیٹیو آفیسر شاہنواز قاسم سے نمائندگی کی گئی اور انہوں نے حکومت اور بینک سے بات چیت کرتے ہوئے کوئی راستہ نکالنے کا تیقن دیا ہے۔ر