مستقل سی ای او کے تقرر کی مساعی، وقف کمشنریٹ کیلئے چیف منسٹر سے نمائندگی
حیدرآباد: تلنگانہ وقف بورڈ کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے حکومت کو چیف اگزیکیٹیو آفیسر کے عہدہ پر مستقل تقرر کے لئے عہدیدار کی تلاش ہے۔ وقف بورڈ میں طویل عرصہ سے مستقل عہدیدار کا تقرر نہیں کیا گیا اور زائد ذمہ داری کے طور پر عہدیداروں کو وقف بورڈ کے امور تفویض کئے گئے۔ حالیہ عرصہ میں قبرستانوں کے تحفظ میں ناکامی پر ہائی کورٹ نے چیف اگزیکیٹیو آفیسر محمد قاسم کے خلاف کارروائی کی حکومت کو ہدایت دی تھی۔ حکومت نے محمد قاسم کا تبادلہ کرتے ہوئے آئی پی ایس عہدیدار شاہنواز قاسم کو وقف بورڈ کی اضافی ذمہ داری دی ہے ۔ شاہنواز قاسم ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کے عہدہ پر فائز ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ ایک ماہ بعد انسپکٹر جنرل کے رتبہ پر ان کی تر قی ہوگی جس کے بعد وہ اقلیتی بہبود سے پولیس ڈپارٹمنٹ واپس ہوجائیں گے۔ اب جبکہ وقف بورڈ میں جائیدادوں کے تحفظ کیلئے سینئر عہدیدار کی ضرورت ہے ۔ محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے حکومت کو دو آئی اے ایس عہدیداروں عائشہ مسرت خانم اور ایم اے عظیم کے نام پیش کئے گئے۔ حکومت کی جانب سے کسی بھی نام کو منظوری نہیں دی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ عائشہ مسرت خانم جو وقار آباد کلکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکی ہیں، وہ وقف بورڈ میں فرائض انجام دینے کیلئے تیار نہیں ہے ۔ وہ کسی ضلع کے کلکٹر کے عہدے کی خواہاں ہیں۔ عائشہ مسرت خانم اور ایم اے عظیم کے درمیان حکومت کو کسی ایک عہدیدار کا انتخاب کرنا ہوگا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وقف بورڈ کے لئے بعض پولیس عہدیداروں کے نام حکومت کو پیش کئے گئے تھے لیکن پولیس عہدیدار بھی وقف بورڈ میں آنے کیلئے آمادہ نہیں ہے۔ حکومت کے مختلف محکمہ جات میں موجود مسلم عہدیداروں سے حکومت نے ربط قائم کیا ہے لیکن کوئی بھی عہدیدار وقف بورڈ کی ذمہ داری قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کو پارٹی کے بعض قائدین نے مکتوب روانہ کرتے ہوئے بورڈ کے بجائے کمشنریٹ کی تشکیل کی کی سفارش کی ہے۔ واضح رہے کہ حالیہ عرصہ میں وقف بورڈ کے بعض متنازعہ فیصلوں کے سبب حکومت کو مداخلت پر مجبور ہونا پڑا ہے۔