حیدرآباد۔9 ۔ جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ میں جاری قانونی پیچیدگیوں نے ملازمین کو ماہِ جون کی تنخواہ سے محروم کردیا ہے ۔ 9 دن گزرنے کے باوجود آج تک ملازمین کو جون کی تنخواہ جاری نہیں کی گئی۔ مستقل چیف اگزیکیٹیو آفیسر عبدالحمید کے تقرر کے بعد توقع کی جارہی تھی کہ بورڈ کی کارکردگی میں بہتری آئے گی لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کو بورڈ میں قانونی پیچیدگی دور کرنے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر مالیاتی اختیارات نہ ہونے کے سبب تنخواہوں کی اجرائی سے قاصر ہیں۔ انہیں وقف بورڈ کی جانب سے مالیاتی اختیارات دیئے جاتے ہیں۔ عبدالحمید کے تقرر کے بعد سے بورڈ کا کوئی اجلاس نہیں ہوا جس کے نتیجہ میں مالیاتی اختیارات کا مسئلہ تعطل کا شکار ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف اگزیکیٹیو آفیسر نے صدرنشین وقف بورڈ کی برقراری کے مسئلہ پر حکومت سے وضاحت طلب کی ہے۔ صدرنشین کی کونسل کی رکنیت کی میعاد ختم ہونے کے بعد بورڈ قانونی کشاکش کا شکار ہے۔ تنخواہوں کی اجرائی کیلئے صدرنشین اور چیف اگزیکیٹیو آفیسر دونوں کے دستخط کی ضرورت پڑتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سی ای او نے اس مسئلہ کو سکریٹری اقلیتی بہبود سے رجوع کردیا ہے۔ دوسری طرف ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ اس تنازعہ کا شکار کیوں بنیں۔ تنخواہوں کی عدم اجرائی کے سبب ملازمین میں بے چینی پائی جاتی ہے ۔ بورڈ میں جملہ ملازمین کی تعداد تقریباً 200 ہے ، جن میں عارضی ملازمین بھی شامل ہیں۔ ملازمین نے شکایت کی کہ جب کبھی تنخواہوں کی اجرائی کے لئے سی ای او سے نمائندگی کی جاتی ہے تو کوئی نہ کوئی بہانہ بنایا جاتا ہے ۔ بورڈ میں تنخواہوں کی اجرائی کیلئے بجٹ میں کوئی کمی نہیں لیکن بعض ارکان صدرنشین کے مسئلہ پر الجھن پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے نتیجہ میں ملازمین متاثر ہوگئے۔ حکومت کی جانب سے صدرنشین کے عہدہ پر محمد سلیم کی برقراری کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس سلسلہ میں اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کو واقف کرایا گیا۔ اس کے باوجود بعض ارکان وقف ایکٹ اور دیگر قانونی نکات کا سہارا لے کر نئے سی ای او کو الجھن میں مبتلا کرچکے ہیں۔ تنخواہ سے محروم غریب ملازمین مکانات کے خرچ کے علاوہ بچوں کی فیس اور کرایہ کی ادائیگی کے سلسلہ میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ بعض ملازمین نے بتایا کہ وہ گھر چلانے کے لئے قرض لینے پر مجبور ہوچکے ہیں۔