وقف بورڈ ٹاسک فورس ٹیم کو ویملواڑہ درگاہ کے دورہ سے روک دیا گیا

   

حقائق کا پتہ چلانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ مقدمات درج کرنے کا بھی انتباہ
حیدرآباد۔24فروری(سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ اور محکمہ اقلیتی بہبود اپنی جائیدادوں کو اپنی ہی حکومت سے محفوظ رکھنے میں ناکام ہوچکا ہے اور جس جائیداد کو تباہ کیاگیا اس کا دورہ کرنے کا اختیار بھی وقف بورڈ عہدیداروں کو نہیں دیا جا رہاہے ۔حکومت کی نگرانی میںد رگاہ کی شہادت پر ایسا محسوس ہورہا ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود اور اقلیتی قائدین کواعتماد میں لینے کے بعد ہی یہ کارروائی انجام دی گئی ۔ ویملواڑہ میںمندر کی توسیع اور ترقیاتی کاموں کیلئے شہید درگاہ حضرت سید بابا تاج الدین باگ سوارؒ کا جائزہ لینے سے وقف بورڈ عملہ کو روک دیاگیا اور محکمہ انڈومنٹ و ضلع انتظامیہ نے وقف بورڈ سے تعاون کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ وہ مندر کے احاطہ میں تعمیرات کا مشاہدہ کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ وقف بورڈ کی ٹیم جو ویملواڑہ مندر میں شہید درگاہ کی تفصیلات حاصل کرنے کے علاوہ شہید درگاہ سے متعلق شکایت درج کروانے ویملواڑہ پہنچی تھی اسے درگاہ کے مقام کا دورہ کرنے سے روک دیا گیا۔ذرائع کے مطابق وزیراقلیتی بہبود محمد اظہر الدین کی مداخلت اور وقف بورڈ عہدیداروں کی درخواست کے بعد بھی محکمہ انڈومنٹ ‘محکمہ مال ‘ پولیس عہدیداروں کی جانب سے وقف بورڈ ٹاسک فورس ٹیم کو مندر کے احاطہ کا جائزہ لینے داخلہ سے روک دیاگیا ۔بتایاجاتاہے کہ درگاہ کی شہادت کی شکایات کے بعد ویملواڑہ پہنچنے والی وقف بورڈ ٹیم کو دھمکی دی گئی کہ اگر وہ زبردستی مندر حدود میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کے خلاف مقدمات درج کرکے کارروائی کی جائے گی ۔ ٹیم میں شامل عہدیداروں نے بتایا کہ انہیں پہلی مرتبہ ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کیونکہ حکومت کے ہی مختلف محکمہ جات میں ًرسرکار عہدیدار بورڈ عملہ کے خلاف کاروائی کا انتباہ دینے لگے ہیں اور محکمہ اقلیتی بہبود درگاہ کی شہادت پر تماشائی بنا ہوا ہے۔3