وقف بورڈ کے عہدیداروں کو تنخواہوں کی فکر

   

بورڈ کی پیروی کرنے والے اسٹینڈنگ کونسل کو بقایا جات کی اجرائی کی فکر نہیں
حیدرآباد۔5۔فروری(سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کے عہدیداروں کو اپنی تنخواہ کی عدم اجرائی کی فکر لاحق ہے اور اپنی تنخواہ کے حصول کے لئے وہ مختلف حربے اختیار کر رہے ہیں لیکن تلنگانہ ہائی کورٹ میں وقف بورڈ کی پیروی کرنے والے اسٹینڈنگ کونسل کے لاکھوں روپئے کے بقایا جات کی اجرائی کے معاملہ میں ٹال مٹول سے کام لیا جا رہا ہے جو کہ تلنگانہ وقف بورڈ کی ہائی کورٹ میں زیر دوراں مقدمات سے عدم دلچسپی کا ثبوت ہے۔ تلنگانہ وقف بورڈ کے تحت موجودانتہائی قیمتی اراضیات کے تحفظ کے سلسلہ میں ہائی کورٹ میں پیروی کرنے والے وکلاء کی فیس اور انہیں ادا کئے جانے والے مشاہرہ کی اجرائی میں کی جانے والی تاخیروکلاء کو بدظن کرنے لگی ہے۔ بتایاجاتاہے کہ تلنگانہ وقف بورڈ نے گذشتہ دو برسوں کے دوران وقف بورڈ کے اسٹینڈنگ کونسل کی جانب سے داخل کئے گئے بلز جاری نہیں کئے ہیں اور اب یہ کہا جارہاہے کہ اسٹینڈنگ کونسل کو اداشدنی بلوں میں ہونے والی تاخیر کی وجہ مقدمات کی تفصیلات کی عدم موجودگی ہے۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ہائی کورٹ میں بورڈ کے مقدمات کی پیروی کرنے والے اسٹینڈنگ کونسل نے اس سلسلہ میں بورڈ کے ذمہ داروں کو تحریری یادداشت حوالہ کرتے ہوئے اس بات سے واقف کروایا ہے کہ ہائی کورٹ میں جو مقدمات پیش ہورہے ہیں ان میں بیشتر مقدمات کی یکسوئی کے سلسلہ میں وہ مؤثر نمائندگی کرتے رہے ہیں اور بعض مقدمات میں جہاں بورڈ کی جانب سے کوئی وکیل موجود نہ ہو ان مقدمات میں بھی وہ پیش ہوچکے ہیں ۔تلنگانہ وقف بورڈ نے ریاست میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد سے اب تک بھی اسٹینڈنگ کونسل کو بلز جاری نہیں کئے ہیں ۔ تلنگانہ وقف بورڈ جو کہ اپنے اسٹینڈنگ کونسل کو فی مقدمہ محض 7000 روپئے فیس ادا کرتا ہے جو کہ انتہائی معمولی فیس ہے لیکن اس کے باوجود اس فیس کی اجرائی میں ہونے والی تاخیر سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وقف بورڈ کو ہائی کورٹ میں جاری مقدمات کی کوئی پرواہ نہیں ہے اور نہ ہی بورڈ کو اس بات سے دلچسپی ہے کہ ہائی کورٹ میں زیر دوراں مقدمات میںوقف جائیدادوں کا تحفظ ہوتا ہے یا نہیں ۔بتایاجاتاہے کہ سپریم کورٹ میں بھی بعض مقدمات میں موقوفہ جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں پیروی کرنے والے وکلاء کو ان کی فیس ادا نہ کئے جانے کے نتیجہ میں سپریم کورٹ میں موجود مقدمات میں بھی وکلاء پیشگی فیس کا مطالبہ کرنے لگے ہیں ۔ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق تلنگانہ وقف بورڈ سابق اسٹینڈنگ کونسل کو بھی لاکھوں روپئے اداشدنی ہے اور وہ اپنی وصول طلب رقومات کے لئے متعدد مرتبہ توجہ دہانی کرواچکے ہیں اس کے باوجود ان کی ادا شدنی رقومات کی اجرائی کے سلسلہ میں کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ۔ دہلی سے تعلق رکھنے والے بعض سینیئر وکلاء نے تلنگانہ وقف بورڈ سے وصول طلب اپنے بقایاجات کے لئے سیاسی دباؤ بھی ڈالنے کی کوشش کی ۔ تلنگانہ وقف بورڈ کے لیگل شعبہ کے علاوہ اکاؤنٹ کے شعبہ کے ذمہ داروں نے اس با ت کی توثیق کی ہے کہ تلنگانہ وقف بورڈ مجموعی اعتبار سے سپریم کورٹ ‘ ہائی کورٹ اور اپنے اسٹینڈنگ کونسل کو زائد از 3 کروڑ روپئے باقی ہیں اور ان رقومات کے لئے وکلاء کی جانب سے مسلسل دباؤ ڈالا جارہا ہے۔3