اپوزیشن بھی ضروری ترامیم کی حامی لیکن حکومت کی نیت ٹھیک نہیں۔ لوک سبھا میں کانگریس رکن گوگوئی کی بحث
نئی دہلی: کانگریس کے لوک سبھا ایم پی گوروگوگوئی نے چہارشنبہ کے روز وقف (ترمیمی) بل کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے پارلیمنٹ اور آئین پر حملہ قراردیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کے اس بل کے پیچھے چار اہم مقاصد ہیں، جو ان کے بقول، مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ لوک سبھا میں بحث کے دوران، گوگوئی نے پارلیمانی امورکے وزیر کرن رجیجو کے ان الزامات کو مسترد کردیا جو انہوں نے یو پی اے حکومت کے دوران 2013 کے وقف ایکٹ میں کی گئی ترامیم کے حوالے سے لگائے تھے۔ جو کچھ بھی انہوں نے2013 کی یو پی اے حکومت کے بارے میں کہا وہ مکمل جھوٹ اورگمراہ کن ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے دعووں کی تصدیق کریں۔ وہ بار بار ہم پر الزامات لگاتے ہیں، افواہیں پھیلاتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں۔ اس سے قبل رجیجو نے یو پی اے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ 2013 کی ترامیم کے تحت کسی بھی فرد۔ہندو، مسلم، عیسائی یا بدھ مت کے پیروکار کو وقف جائیداربنانے کی اجازت دی گئی تھی، حالانکہ وقف خاص طور پر مسلمانوں کے لیے ہوتا ہے۔ انہوں نے وقف ایکٹ کے سیکشن 108 پر بھی اعتراض کیا، جس کے تحت وقف بورڈ کے قوانین ملک کے دیگر تمام قوانین پر فوقیت رکھتے ہیں۔ رجیجو کے تبصروں کا جواب دیتے ہوئے، گوگوئی نے کہا، یہ بل پارلیمنٹ کی بنیاد پر حملہ ہے۔ یہ آئین پر حملہ ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اس ترمیم کو چار بنیادی مقاصد کے تحت لا رہی ہے: آئین کو کمزورکرنا، اقلیتی برادریوں کو بدنام کرنا، ہندوستانی معاشرے میں تفرقہ ڈالنا، اور اقلیتوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنا۔ انہوں نے بل کی پیشکشی کے وقت پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ ستمبر 2023 تک اقلیتی امورکی وزارت نے وقف قانون میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی سفارش نہیں کی تھی، تو پھر یہ قانون کس نے اورکیسے بنایا؟ بی جے پی حکومت پر مذہبی آزادی کو محدود کرنے کا الزام لگاتے ہوئے، گوگوئی نے کہا کہ لوگوں کو عید کے دن آزادانہ طور پر نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ انہوں نے این ڈی اے میں اقلیتوں کی نمائندگی پر بھی سوال اٹھایا اور استفسار کیا کہ پارلیمنٹ میں این ڈی اے کے کتنے اقلیتی ایم پیز ہیں؟ رجیجو کے اس دعوے پر تنقید کرتے ہوئے کہ بل متعارف کروانے سے پہلے وسیع بحث ہوئی تھی، گوگوئی نے کہا، یہ سب مکمل طور پر گمراہ کن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی پالیسیاں صرف مسلمانوں تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ دوسرے گروہوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آج وہ ایک طبقہ کی زمین کو نشانہ بنا رہے ہیں،کل وہ کسی اورکو نشانہ بنائیں گے۔ وقف قانون میں ترامیم کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تبدیلیاں ایسی ہونی چاہئیں جو بل کو مضبوط کریں، نہ کہ تفریق پیدا کریں۔ ترامیم ضروری ہیں، میں یہ نہیں کہہ رہا کہ نہیں ہیں لیکن ترامیم ایسی ہونی چاہئیں جو بل کو مضبوط کریں، تقسیم نہ پیدا کریں۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) نے اپوزیشن کی کوئی تجویز قبول نہیں کی۔ رجیجو کے اس دعوے کے جواب میں کہ وقف ایکٹ دیگر قوانین کو مستردکرتا ہے، گوگوئی نے اسے گمراہ کن قرار دیا۔