وقف ترمیمی بل اقلیتی حقوق سلب کرنے کی سازش

   

نئے قانون کے ذریعہ ملک کے سماجی تانے بانے کو بگاڑنے کی کوشش، کانگریس کا الزام

نئی دہلی: کانگریس نے مودی حکومت کے نئے وقف ترمیمی بل کو آئین پر ایک اور دانستہ طور پر کیا گیا حملہ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اس کے ذریعے اقلیتوں کے مذہبی اداروں اور روایات کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پارٹی نے کہا کہ حکومت کا مقصد اس قانون کے ذریعے ملک کے سماجی تانے بانے کو بگاڑنا اور انتخابی فائدے کے لیے پولرائزیشن پیدا کرنا ہے۔کانگریس کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کے انچارج جے رام رمیش نے ایک بیان میں کہا کہ اس بل سے اقلیتی برادری کے مذہبی اداروں کے انتظامی حقوق خطرے میں پڑ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ قوانین کے تحت وقف املاک کی حیثیت اور اقلیتوں کے ادارہ جاتی اختیارات محفوظ تھے لیکن نئے قانون میں ان حقوق کو منظم طریقے سے کمزور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے وقف کی تعریف میں جان بوجھ کر تبدیلی کی ہے تاکہ زمین وقف کرنے میں ابہام پیدا کیا جا سکے۔ ان کے مطابق اس سے وقف املاک کو عام اراضی کے طور پر پیش کر کے ان پر تجاوزات کو قانونی تحفظ دیا جا سکتا ہے۔کانگریس کا الزام ہے کہ نئے بل میں وقف املاک پر قابض افراد کو تحفظ دیا جا رہا ہے۔ اقلیتوں کے مذہبی اداروں کے انتظامی حقوق کو کمزور کیا جا رہا ہے اور حکومت اقلیتی برادری کی روایات کو نشانہ بنا کر سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا رہی ہے۔جے رام رمیش نے کہا کہ یہ قانون عدلیہ کی دیرینہ روایات کے خلاف ہے اور مذہبی اداروں کی خودمختاری پر حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ نے برسوں سے وقف املاک کے تحفظ اور ان کے انتظامی حقوق کو تسلیم کیا ہے لیکن یہ حکومت ان حقوق کو ختم کرنے کے درپے ہے۔کانگریس نے الزام لگایا کہ حکومت نے وقف انتظامیہ کو کمزور کرنے کے لیے موجودہ قانون کی دفعات کو ختم کر دیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ بل کے ذریعے حکومت اقلیتوں کو ان کے قانونی اور مذہبی حقوق سے محروم کرنے کی راہ ہموار کر رہی ہے۔