اسمبلی میں چیف منسٹر کا اعلان، دھرانی پورٹل پر وقف جائیدادوں کے رجسٹریشن پر پابندی
حیدرآباد۔7 ۔اکتوبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اوقافی جائیدادوں پر ناجائز قبضوںکی سی بی سی آئی ڈی تحقیقات کا اعلان کیا۔ تلنگانہ اسمبلی میں شہری اور دیہی علاقوں کی ترقی پر مباحث کے دوران مجلسی ارکان کے مطالبہ پر کے سی آر نے سی بی سی آئی ڈی تحقیقات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آج ہی اس سلسلہ میں احکامات جاری کردیئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات کے ذریعہ نہ صرف غیر مجاز قبضوں کا پتہ چلایا جائے گا بلکہ حقیقی اوقافی جائیدادوں کی نشاندہی کی جائے گی ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ریاست میں وقف اور انڈومنٹ اراضیات کے تحفظ کے لئے حکومت نے دھرانی پورٹل کے آغاز کے بعد اہم قدم اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومتوں کے دور میں وقف اور انڈومنٹ اراضیات میں کافی دھاندلیاں ہوئی ہیں۔ ان جائیدادوں کو مزید تباہی سے بچانے کیلئے حکومت نے دھرانی پورٹل پر وقف اور انڈومنٹ اراضیات کو منجمد (فریز) کردیا ہے تاکہ ان کا رجسٹریشن یا پھر کوئی اور معاملت نہ ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ وقف اور انڈومنٹ اراضیات کے رجسٹریشن کو روکنے میں یہ فیصلہ کارگر ثابت ہوگا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ وقف سے متعلق عدالتوں میں زیر دوران مقدمات کی مناسب پیروی نہ ہونے کے سبب جائیدادوں کو نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سی بی سی آئی ڈی کے ذریعہ نہ صرف اوقافی جائیدادوں کو محفوظ رکھنے کے اقدامات کئے جائیں گے بلکہ جن اراضیات اور جائیدادوں پر قبضے ہوئے ہیں، ان کی نشاندہی کی جائے گی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت کو سی بی سی آئی ڈی تحقیقات میں کوئی اعتراض نہیں ہے اور کسی کو اس معاملہ میں شبہ کی ضرورت نہیں۔ قبل ازیں مباحث میں حصہ لیتے ہوئے مجلس کے معظم خاں نے اوقافی جائیدادوں کی بے قاعدگیوں کے سلسلہ میں سی بی آئی ، سی بی سی آئی ڈی یا پھر برسر خدمت جج کے ذریعہ تحقیقات کے مطالبہ کو دہرایا ۔ انہوں نے گڈی انارم فروٹ مارکٹ کی منتقلی سے تاجروں کو درپیش مشکلات کا بھی ذکر کیا۔ چیف منسٹر کی جانب سے وقف جائیدادوں کی سی بی سی آئی ڈی تحقیقات کے اعلان پر مجلس کے فلور لیڈر اکبر اویسی نے اظہار تشکر کیا اور امید ظاہر کی کہ تحقیقات کے ذریعہ غیر مجاز قبضوں کی برخواستگی اور حقیقی جائیدادوں کا پتہ چلانے میں مدد ملے گی۔ ر