وقف جائیدادوں کے تحفظ اور ریونیو ریکارڈ میں شمولیت کو ترجیح دی جائے

   

انسپکٹر آڈیٹرس کو محمد سلیم کی ہدایت، قابضین کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مشورہ
حیدرآباد۔24۔ ستمبر (سیاست نیوز) صدرنشین تلنگانہ وقف بورڈ محمد سلیم نے تمام اضلاع کے انسپکٹر آڈیٹرس کو ہدایت دی کہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور جی آئی ایس میاپنگ پر خصوصی توجہ دیں تاکہ گوگل کے ریکارڈ کے مطابق تمام اوقافی جائیدادوں کی حدبندی ڈیجیٹلائیز سسٹم سے مکمل ہوجائے۔ صدرنشین وقف بورڈ نے انسپکٹر آڈیٹرس اور بورڈ کے عہدیداروں کا اجلاس طلب کیا ۔ پانچ گھنٹوں سے زائد جاری رہے اس اجلاس میں اوقافی امور اور جائیدادوں کے تحفظ سے متعلق مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انسپکٹرس کی اولین ترجیح جائیدادوں کا تحفظ اور غیر مجاز قابضین کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے ۔ اوقافی جائیدادوں کے ریکارڈ کو بہتر بناتے ہوئے اسے ریونیو ریکارڈ میں بحیثیت وقف درج کرایا جائے تاکہ غیر قانونی فروخت اور رجسٹریشن کو روکا جاسکے۔ انسپکٹرس سے ہر ضلع میں حالیہ ریونیو سروے کی بنیاد پر اوقافی جائیدادوں کی ریونیو ریکارڈ میں شمولیت کے بارے میں معلومات حاصل کی گئیں۔ انہیں ہدایت دی گئیں کہ وہ ریونیو حکام سے مسلسل ربط میں رہیں تاکہ ریونیو ریکارڈ کی تیاری میں اوقافی جائیدادوں کو شامل کیا جاسکے۔ انسپکٹرس کو ہدایت دی گئی کہ جہاں کہیں غیر مجاز قبضے ہوں ، فوری طور پر پولیس میں ایف آئی آر درج کرایا جائے اور ریونیو حکام کو اس کی اطلاع دی جائے۔ وقف ایکٹ کے سیکشن 54 کے تحت قابضین کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے ۔ جی آئی ایس میاپنگ کیلئے ماہرین کی ٹیم حیدرآباد میں موجود ہے اور ہر ضلع کے وقف انسپکٹر کو اس کام میں تعاون کرنا چاہئے ۔ قومی ترقی اسکیم کے تحت جی آئی ایس میاپنگ پراجکٹ پر عمل کیا جارہا ہے جس کی فنڈنگ مرکزی حکومت کرے گی ۔ گوگل کے ذریعہ ڈیجیٹلائیز میاپنگ سے جائیدادوں کی حدبندی کا تعین ہوپائے گا۔ انسپکٹرس سے کہا گیا کہ وہ ریونیو ریکارڈ بالخصوص پہانی میں وقف جائیدادوں کی شمولیت کو یقینی بنائیں۔ وقف کامپلکسوں کے کرایہ جات کی وصولی کے سلسلہ میں انسپکٹرس کو پابند کیا گیا کہ وہ ایسے کرایہ داروں کی نشاندہی کریں جو طویل عرصہ سے کرایہ باقی ہے تاکہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جاسکے۔ حیدرآباد میں نبی خانہ مولوی اکبر، مکہ مدینہ علاء الدین ٹرسٹ کے علاوہ نظام آباد ، نلگنڈہ ، کاما ریڈی اور محبوب نگر میں کئی کامپلکس ایسے ہیں جہاں طویل عرصہ سے کرایہ دار وقف بورڈ کو کرایہ دار کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ نظام آباد میں وقف رحمانیہ کے تحت 59 ملگیات ہیں اور گزشتہ پانچ سال سے کرایہ باقی ہیں۔ کریم نگر کے تین وقف کامپلکسوں کا کرایہ حاصل نہیں ہورہا ہے ۔ وقف انسپکٹرس کو ہدایت دی گئی کہ وہ ایسے افراد کے خلاف کارروائی کے سلسلہ میں رپورٹ پیش کریں۔ کرایہ جات کی وصولی کو ترجیح دی جائے ، بصورت دیگر وقف بورڈ قانونی کارروائی کرے گا ۔ شہر اور اضلاع میں جہاں کہیں اوقافی اراضیات کو سڑکوں کی توسیع کے سلسلہ میں حاصل کیا گیا، ان کے معاوضہ کے سلسلہ میں رپورٹ طلب کی گئی ہے۔ عہدیداروں کو واضح کیا گیا کہ سڑکوں کی توسیع کے سلسلہ میں مساجد کو حاصل کرنے کی ہرگز اجازت نہ دی جائے ۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر عبدالحمید انسپکٹرس کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے ہفتہ میں ایک مرتبہ ویڈیو کانفرنس کریں گے اور وقفہ وقفہ سے اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے جائیدادوں کا معائنہ کیا جائے گا۔ اجلاس میں عدالتوں میں زیر دوران مقدمات کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ انسپکٹرس کو ہدایت دی گئی کہ وہ وقف بورڈ کے دیگر سیکشن سے قانونی مدد و رہنمائی حاصل کریں۔