عدالت میں ناقص پیروی اور بورڈ کا رویہ مقدمات میں شکست کا سبب !
حیدرآباد۔12نومبر(سیاست نیوز) تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ اپنی جائیدادوں کے تحفظ کے معاملہ میں مسلسل ناکام ہونے لگا ہے۔حالیہ عرصہ میں وقف کو تلنگانہ ہائی کورٹ میں تین بڑے مقدمات میں شکست سے دو چار ہونا پڑا ہے جن میں عید گاہ گٹلہ بیگم پیٹ‘ درگاہ حضرت سالار اولیاء ؒ حفیظ پیٹ کے علاوہ آج تلنگانہ ہائی کورٹ میں عاشور خانہ علی سعدؒ کی 488 ایکڑ اراضی کے علاوہ علی گوڑہ مقطعہ کی 228 ایکڑ اراضی کے تحفظ میں ناکام رہا۔اندرون 2 سال کے دوران تلنگانہ وقف بورڈ عید گاہ گٹلہ بیگم پیٹ کی 99 ایکڑ اراضی‘ درگاہ حضرت سالار اولیاء ؒ کی 168 ایکڑاراضی کے علاوہ عاشور خانہ علی سعد ؒ و سعد علی گوڑہ مقطعہ کی جملہ 728 ایکڑ اراضی سے محروم ہوچکا ہے۔اس طرح دو سال کے دوران مجموعی اعتبار سے وقف بورڈ کی نگرانی میں موجود 995ایکڑ قیمتی اراضی کے مقدمات ہائی کور ٹ میں ہار چکا ہے۔ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ نے چند ماہ قبل ہائی کورٹ میں عاشور خانہ علی سعد کی اراضی کے معاملہ میں وقف بورڈ کے خلاف فیصلہ کے بعد ڈویژن بنچ پر درخواست داخل کی تھی جسے چیف جسٹس تلنگانہ ہائی کورٹ جسٹس ستیش چندر شرما اور جسٹس اے راج شیکھر ریڈی پر مشتمل بنچ نے مسترد کرتے ہوئے سنگل جج کی جانب سے دیئے گئے فیصلہ کو برقرار رکھا۔ وقف بورڈ کی جانب سے ریاست تلنگانہ میں موجود اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں متعدد دعوے کئے جاتے ہیں لیکن انتہائی قیمتی اراضیات کے مقدمات میں مسلسل ناکامیوں اور عدالت میں ہونے والی شکست سے کارکردگی اور عدالت میں کی جانے والی پیروی پر شبہات کا اظہار کیا جانے لگا ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور ان کے رجسٹریشن کو منسوخ کرنے کے دعوؤں کے دوران گذشتہ چند ماہ کے دوران عید گاہ گٹلہ بیگم پیٹ‘ درگاہ حضرت سالار اولیاء ؒ کے علاوہ اب عاشور خانہ علی سعد ؒ کی انتہائی قیمتی اراضی کے معاملات میں مخالف وقف بورڈ فیصلوں سے یہ بات واضح ہونے لگی ہے کہ وقف بورڈ جن وکلاء پر انحصار کئے ہوئے ہے وہ ان معاملات سے نمٹنے کے اہل نہیں ہیں۔ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے معاملہ میں ریاستی وقف بورڈ اور الحاج محمد سلیم صدرنشین کی جانب سے اختیار کردہ رویہ کو اس مقدمہ میں شکست کے بعد مختلف گوشوں سے تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا ہے اور کہا جار ہاہے کہ ریاستی وقف بورڈ میں شامل افراد اپنی ذاتی جائیدادوں کے مقدمات کیلئے جن وکلاء کو نامزد کرنے کے حق میں نہیں ہوتے ۔( سلسلہ صفحہ 7 پر)
