سنٹرل وقف کونسل کی ٹیم کے ساتھ اجلاس، جائیدادوں کے سروے کا جائزہ
حیدرآباد ۔3۔ڈسمبر (سیاست نیوز) اوقافی جائیدادوں کے ریکارڈ کو محفوظ کرنے کیلئے سنٹرل وقف کونسل نے ملک بھر میں جی آئی ایس اور جی پی ایس سسٹم کے ذریعہ ڈیجیٹلائزیشن کا پراجکٹ شروع کیا ہے ۔ اس پراجکٹ کے تحت ملک بھر میں اوقافی جائیدادوں کے ریکارڈ کو محفوظ کیا جائے گا جس سے جائیدادوں کے تحفظ میں مدد ملے گی۔ سنٹرل وقف کونسل کی ٹیمیں مختلف ریاستوں میں سروے کا کام انجام دے رہی ہیں۔ تلنگانہ کیلئے 4 رکنی ٹیم کو روانہ کیا گیا جو گزشتہ ایک ماہ سے تین اضلاع میں اوقافی جائیدادوں کے ریکارڈ کے مطابق سروے کرتے ہوئے ریکارڈ کو ڈیجیٹلائیز کرنے میں مصروف ہیں۔ پہلے مرحلہ میں حیدرآباد ، رنگا ریڈی اور سنگا ریڈی اضلاع کی اراضیات کا سروے شروع کیا گیا ۔ صدرنشین تلنگانہ وقف بورڈ محمد سلیم نے سنٹرل وقف کونسل کی ٹیم اور وقف بورڈ کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا جس میں جائیدادوں کے سروے کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا ۔ انہوں نے عہدیداروں سے کہا کہ وہ مقررہ مدت میں سروے کا کام مکمل کر لیں تاکہ تلنگانہ میں اوقافی جائیدادوں کا تحفظ ہوسکے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جائیدادوں کے تحفظ میں سنجیدہ ہے اور جائیدادوں کی ترقی کے ذریعہ اقلیتوں کی بھلائی کی اسکیمات کے آغاز کا منصوبہ رکھتی ہے۔ محمد سلیم نے کہا کہ پہلے مرحلہ میں شہر کی اہم جائیدادوں کو ڈیولپ کرنے کی تجویز حکومت کو پیش کی گئی ہے ۔ محمد سلیم نے بتایا کہ جائیدادوں کے ریکارڈ کو ڈیجیٹلائیزڈ کرنے سے ناجائز قبضوں کی روک تھام ہوگی اور موجودہ قابضین کے خلاف کارروائی کی جاسکے گی۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ وقف ریکارڈ میں الٹ پھیر کرتے ہوئے جائیدادوں کو نشانہ بنایا گیا۔ جی آئی ایس اور جی پی ایس سسٹم کے ذریعہ پراجکٹ کی تکمیل کے بعد کسی بھی جائیداد کے ریکارڈ میں تحریف ممکن نہیں ہوگی۔ سنٹرل وقف کونسل کے عہدیدار مقامی وقف بورڈ کے انسپکٹرس کے ہمراہ جائیدادوں کا معائنہ کرتے ہوئے ان کے تحت موجود اراضیات کے حدود کا تعین کر رہے ہیں۔ ہر جائیداد کا شخصی طورپر سروے کرنے کے بعد ریکارڈ کو ڈیجیٹلائیزڈ کیا جارہا ہے ۔ محمد سلیم نے وقف بورڈ کے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ سروے کے کام میں مکمل تعاون کریں۔ تاکہ تلنگانہ میں جلد سے جلد اراضیات کے ریکارڈ کو ڈیجیٹلائزڈ کرنے کا عمل مکمل ہوجائے ۔