وقف بورڈ کی کامیابی، قبضہ کی برخواستگی کیلئے عہدیداروں کو مکتوب
حیدرآباد۔4۔نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کو نرمل ضلع کے بھینسہ ٹاؤن میں ایک اہم اوقافی جائیداد کے تحفظ میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ تلنگانہ وقف ٹریبونل نے 18.22 ایکر اراضی پر ناجائز قبضے کے خلاف احکامات جاری کئے اور اسے وقف اراضی تسلیم کرلیا۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر تلنگانہ وقف بورڈ شاہنواز قاسم نے ریونیو ڈیویژنل آفیسر بھینسہ کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے ٹریبونل کے احکامات پر عمل آوری اور ناجائز قبضہ کی برخواستگی کی خواہش کی ہے۔ مسجد مشائقین اور درگاہ حضرت عبدالواحد غریب نواز بھینسہ ٹاؤن کے تحت مختلف سروے نمبرات میں 318 ایکر 32 گنٹہ اراضی موجود ہے اور یہ وقف نوٹیفائیڈ اراضی ہے جو اے پی گزٹ I-A مورخہ 4 جنوری 1990 ء کو درج ہے۔ مکتوب میں بتایا گیا ہے کہ ایک شخص نے 18 ایکر 22 گنٹہ اراضی جو سروے نمبر 162 کے تحت ہے، اس پر ناجائز قبضہ کیا ہے۔ وقف بورڈ کی جانب سے قابض کو نوٹس جاری کی گئی۔ غیر مجاز قابض نے آندھراپردیش ہائی کورٹ میں ڈبلیو پی نمبر 15769-2012 کے تحت درخواست دائر کرتے ہوئے وقف بورڈ کی نوٹس کو چیلنج کیا ۔ ہائی کورٹ نے درخواست گزار کو وقف ٹریبونل سے رجوع ہونے کی ہدایت دی۔ درخواست گزار نے وقف ٹریبونل میں درخواست دائر کرتے ہوئے وقف بورڈ کے احکامات مورخہ 25 اپریل 2012 ء کو غیر قانونی قرار دینے اور حکم التواء جاری کرنے کی اپیل کی۔ ٹریبونل نے فریقین کی سماعت اور دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد غیر مجاز قابض کی درخواست کو مسترد کردیا ۔ ٹریبونل نے یکم ستمبر 2009 ء سے غیر مجاز قبضہ کی برقراری تک وقف بورڈ نے فی ایکر 10,000 روپئے سالانہ اور 5,000 روپئے ہر فصل کے حساب سے رقم جمع کرنے کی ہدایت دی۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر نے ریونیو ڈیویژنل آفیسر کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے غیر مجاز قبضہ کی برخواستگی کی اپیل کی۔ ر