’ون نیشن،ون الیکشن‘ ہندوستان کی ضرورت ، وزیراعظم مودی کا دعویٰ

,

   

مختلف علاقوں میں ہر چند ماہ بعد چناؤ کے انعقاد کا ترقیاتی کاموں پر منفی اثر ، قوم متحمل نہیں ہوسکتی

کیواڈیا (گجرات) : وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کو ’’ایک قوم ، ایک الیکشن‘‘ کے لئے زور دیتے ہوئے کہاکہ یہ ہندوستان کی ضرورت ہے کیوں کہ ہر چند ماہ میں چناؤ کا انعقاد ترقیاتی کاموں کو متاثر کررہا ہے۔ 80 ویں آل انڈیا پریسائیڈنگ آفیسرس کانفرنس کے اختتامی سیشن سے ویڈیو لنک کے ذریعہ خطاب کرتے ہوئے مودی نے 26/11 ممبئی حملوں کے شہیدوں کو خراج بھی پیش کیا اور دعویٰ کیاکہ ہندوستان اب نئی پالیسی اور نئے طریقہ کار کے ساتھ دہشت گردی سے لڑرہا ہے۔ 26/11 کو ہندوستان میں بدترین دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے مودی نے کہاکہ ہندوستان اِسے کبھی فراموش نہیں کرسکتا۔ 26 نومبر 2008 ء کو پاکستان سے لشکر طیبہ کے 10 دہشت گرد سمندری راستہ سے آئے اور اُنھوں نے اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے 166 افراد کو ہلاک کیا تھا جن میں 18 سکیورٹی پرسونل شامل تھے۔ ممبئی میں 60 گھنٹے کے محاصرہ کے دوران متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔ مودی نے ایک قوم، ایک الیکشن کی پرزور حمایت کرتے ہوئے کہاکہ یہ نہ صرف مباحث کا معاملہ ہے بلکہ ہندوستان کی ضرورت بھی ہے۔ مختلف مقامات پر ہر چند ماہ میں انتخابات کا انعقاد ترقیاتی کاموں پر اثرانداز ہورہا ہے جس سے سبھی واقف ہیں اِس لئے ’’ون نیشن ، ون الیکشن‘‘ پر سنجیدگی سے غور و خوض کرنا ضروری ہے۔ وزیراعظم نے لوک سبھا، اسمبلی اور پنچایت کے چناؤ کے لئے ووٹروں کی واحد فہرست تیار کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہاکہ علیحدہ فہرستیں وسائل کو ضائع کرنا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ مقننہ، عاملہ اور عدلیہ کو بہتر ربط اور قومی مفاد میں کام کرنا چاہئے اور یہی ہر فیصلہ کی اساس ہونا چاہئے۔ ہمیں ضرور یاد رکھنا چاہئے کہ جب سیاست عوام اور قوم پر غلبہ حاصل کرلے تو پھر ایسے حالات میں قوم کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ اُنھوں نے سردار سرور ڈیم کی تکمیل میں تاخیر کی مثال کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ یہ برسہا برس سے لیت و لعل میں پڑا تھا۔ اگر ترقی کو ترجیح دی جاتی تو یہ بہت پہلے مکمل ہوسکتا تھا۔ جنھوں نے اِسے روکے رکھا اُنھیں کوئی تاسف نہیں۔ اُن کا اشارہ واضح طور پر کانگریس ہے۔ چھوت چھات کی سیاست کو یکسر مسترد کرتے ہوئے مودی نے مجسمۂ اتحاد کی مثال دی جسے اُن کی حکومت نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کے خراج میں تعمیر کیا حالانکہ اُن کا تعلق بی جے پی سے رہا تھا نہ جن سنگھ سے۔