ونود کمار کو ریاستی منصوبہ بندی کمیشن کے نائب صدر نشین کا عہدہ زیر غور

   

کونسل کی 2 نشستوں کیلئے قائدین کی مسابقت، سکھیندر ریڈی کوسبقت
حیدرآباد۔/13 جولائی، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے حالیہ لوک سبھا انتخابات میں کریم نگر سے شکست خوردہ پارٹی امیدوار اور اپنے رشتہ دار کو حکومت میں اہم عہدہ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق سابق رکن پارلیمنٹ بی ونود کمار کو ریاستی منصوبہ بندی کمیشن کا نائب صدر نشین منتخب کیا جاسکتا ہے۔ اس سلسلہ میں چیف منسٹر نے اصولی طور پر اتفاق کرلیا ہے اور جلد ہی احکامات کی اجرائی ممکن ہے۔ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد 2014 تا2018 اسٹیٹ پلاننگ کمیشن کے نائب صدر نشین کے عہدہ پر ایس نرنجن ریڈی فائز رہے جو حالیہ اسمبلی انتخابات میں کامیابی کے بعد ریاستی کابینہ میں شامل کئے گئے ہیں جس کے سبب منصوبہ بندی کمیشن کے عہدہ سے انہوں نے استعفی دے دیا تھا۔ گزشتہ 9 ماہ سے نائب صدر نشین منصوبہ بندی کمیشن کے عہدہ پر تقرر نہیں کیا گیا۔ حالیہ لوک سبھا انتخابات میں ونود کمار کو بی جے پی امیدوار کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ونود کمار 2001 میں ٹی آر ایس کے قیام کے بعد سے نئی دہلی کی سیاسی سرگرمیوں میں اہم رول ادا کرتے رہے ہیں۔ تلنگانہ کے حق میں علاقائی جماعتوں کی تائید حاصل کرنے میں وہ کے سی آر کے ساتھ شامل رہے لہذا چیف منسٹر انہیں کسی اہم عہدہ پر فائز کرنا چاہتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ونود کمار کو ایم ایل سی کے عہدہ پر فائز کرتے ہوئے نائب صدر نشین پلاننگ کمیشن مقرر کیا جاسکتا ہے۔ پارٹی کے دیگر ذرائع کے مطابق کے سی آر انہیں راجیہ سبھا کیلئے نامزد کرسکتے ہیں تاکہ نئی دہلی میں مرکز اور ریاست کے درمیان بہتر تال میل کیلئے ان کی خدمات حاصل کی جاسکے۔ آئندہ سال 9 اپریل کو راجیہ سبھا کی 2 نشستیں خالی ہوں گی اور ان دونشستوں پر ٹی آر ایس امیدواروں کی کامیابی یقینی ہے ان میں سے ایک نشست ونود کمار کو دیئے جانے کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔ فی الوقت انہیں پلاننگ کمیشن کے نائب صدرنشین کا کابینی درجہ کا عہدہ دیا جاسکتا ہے بعد میں وہ راجیہ سبھا کیلئے منتخب ہونے کے بعد اس عہدہ سے استعفی دے دیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ ونود کمار نے یہ فیصلہ کے سی آر پر چھوڑ دیا ہے کہ ان کی خدمات ریاست میں برقرار رکھی جائیں یا دہلی میں حاصل کی جائیں۔ اسی دوران ٹی آر ایس میں کونسل کی 2 مخلوعہ نشستوں کیلئے مسابقت شروع ہوچکی ہے۔ راملو نائیک اور یادو ریڈی کو رکنیت سے نااہل قرار دینے کے سبب دونوں نشستیں خالی ہوئی ہیں۔ اگرچہ عدالت نے انہیں فوری طور پر پُر کرنے سے روک دیا ہے تاہم جب کبھی بھی انہیں پُر کیا جائے اس عہدہ کے اہم دعویداروں میں جی سکھیندر ریڈی سرفہرست ہیں۔ چیف منسٹر نے انتخابی مہم کے دوران سکھیندر ریڈی کو ایم ایل سی کی رکنیت دینے کا برسرعام وعدہ کیا تھا۔ دوسری نشست کیلئے پارٹی قائدین کے علاوہ تلنگانہ تحریک میں اپنے گیتوں سے محظوظ کرنے والے بعض فنکار بھی امیدواروں میں شامل ہیں۔