ووٹ دینی ذمہ داری اور قومی فریضہ، غلامی سے آزادی

   

عوام دستوری اور شرعی حق کا بلا خوف استعمال کریں،ووٹ ایک امانت ہے ، خدمت گذار امیدواروں کو منتخب کرنے کا سنہری موقع
حیدرآباد۔/29 نومبر، ( سیاست نیوز) جمہوریت میں رائے دہی کا دن عوام کیلئے کسی تہوار سے کم نہیں ہوتا کیونکہ عوام ووٹ کے حق کا استعمال کرتے ہوئے اپنی پسند کے امیدواروں کو منتخب اور عوامی خدمات میں مایوس کرنے والوں کو مسترد کرسکتے ہیں۔ ووٹ کا استعمال ہر شہری کا دستوری اور قانونی حق ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ مسلمانوں کیلئے ووٹ شرعی حق کی حیثیت رکھتا ہے اور شریعت نے ووٹ کے استعمال کی اجازت دی ہے تاکہ ووٹ کے ذریعہ سچائی اور حق کی تائید کی جاسکے۔ ووٹ محض سیاسی امیدواروں کو منتخب کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ غلامی سے آزادی کا نقیب ہوتا ہے۔ ووٹ کے استعمال میں اگر کوتاہی کی جائے یا پھر ووٹ کی اہمیت کو محسوس نہ کرتے ہوئے رائے دہی سے دور رہیں تو یہ نہ صرف جمہوریت بلکہ ملک کے ساتھ دیانتداری کے خلاف ہوگا۔ ووٹ کے استعمال کے بارے میں مسلم رائے دہندوں کو باشعور بنانے کیلئے مسلم مذہبی رہنماؤں، جماعتوں اور تنظیموں نے باقاعدہ مہم شروع کی ہے اور بتایا گیا ہے کہ ووٹ شرعی اعتبار سے ایک امانت ہے جس کا غلط استعمال نقصاندہ ثابت ہوگا۔ سوشیل میڈیا پر ووٹ کی اہمیت کے حق میں شعور بیداری کے تحت قرآن حکیم کی آیت کا حوالہ دیا گیا جس میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ یقیناً اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں تک پہنچاؤ اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ کرو۔ قرآن مجید میں کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے۔ ووٹ ایک شہادت ہے، سفارش ہے اور وکالت بھی ہے۔ قابلیت، دیانت اور امانت کے ساتھ ہر رائے دہندہ اپنی پسند کے امیدوار کے حق میں ووٹ کے ذریعہ شہادت دیتا ہے۔ عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ نیک، صالح اور عوامی خدمت گذار امیدوار کے حق میں شہادت اور سفارش کریں۔ نااہل قائدین کو ووٹ دینا جھوٹی شہادت اور ناجائز وکالت شمار کی جائے گی اور اس کے بارے میں روز محشر باز پرس کی جاسکتی ہے۔ عوام کو جاننا چاہیئے کہ ووٹ آپ کی ایک طاقت ہے اور 30 نومبر کو ہر شخص اور اس کے خاندان کو اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہیئے۔ ووٹ دراصل دینی ذمہ داری اور قومی فریضہ بھی ہے۔ شرعی اعتبار سے ووٹ گواہی ہے اس کو چھپانا، غلط گواہی دینا یا پیسوں کے عوض فروخت کرنا ناجائز کے زمرہ میں آئے گا۔ ووٹ کا استعمال ہر رائے دہندہ بلا خوف و خطر کرے تاکہ حقیقی خدمت گذاروں کو منتخب کرنے میں مدد ملے۔ ووٹ کے حق سے کوتاہی ناکارہ افراد کے مسلط ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔ دستور ہند نے 18 سال عمر کے افراد کو رائے دہی کا حق دیا ہے اور رائے کے اظہار میں کوئی جبر یا زبردستی نہیں۔ رائے دہندے ہرگز یہ نہ سوچیں کہ ان کے ایک ووٹ سے کیا فرق پڑے گا۔ ہر شخص اگر یہی سوچنے لگ جائے تو پھر اسمبلی اور پارلیمنٹ میں حقیقی خدمت گذاروں کو کون پہنچائے گا۔ حیدرآباد کے اسمبلی حلقہ جات میں عام طور پر رائے دہی 40 تا 50 فیصد درج کی جاتی ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ 50 فیصد رائے دہندوں نے اپنے دستوری، قانونی اور شرعی حق کا استعمال نہ کرتے ہوئے نااہلوں کو عوام پر مسلط ہونے کا موقع دیا ہے۔ کم رائے دہی کا مطلب زیادہ تر عوام کا امیدواروں کو مسترد کرنا ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے رائے دہندوں کیلئے ’ نوٹا ‘ کی سہولت فراہم کی ہے تاکہ وہ تمام امیدواروں کو مسترد کرسکیں۔