٭ اسمبلی کیلئے ووٹ ملک کا مستقبل طئے کرنے میں اہم ہوگا
٭ مخالف مسلم قوانین کی منظوری میںارکان راجیہ سبھا کی تائید اہم
٭ ارکان اسمبلی ہی ارکان راجیہ سبھا منتخب کرتے ہیں
٭ ماضی کے تجربات کو پیش نظر رکھتے ہوئے مستقبل کا فیصلہ ضروری
حیدرآباد 22 نومبر ( سیاست نیوز ) تلنگانہ اسمبلی انتخابات کی سرگرمیاں عروج پر پہونچ چکی ہیں۔ اب انتخابی مہم بھی اختتامی مراحل میں پہونچ رہی ہے اور سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کی سرگرمیوں میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہوگیا ہے ۔ ویسے تو ملک کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کا انعقاد عمل میں آ رہا ہے اور دوسری ریاستوں کی طرح ہی تلنگانہ کے انتخابی نتائج انتہائی اہمیت کے حامل ہونگے ۔ یہ نتائج صرف ریاست کی حد تک اپنے اثرات مرتب نہیں کریں گے بلکہ ان نتائج کے اثرات قومی سیاست اور ملک بھر میں مسلمانوں کے مستقبل کیلئے بھی بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہونگے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر جماعت اور ہر امیدوار اپنی کامیابی کو یقینی بنانے کی تگ و دو میں مصروف ہے ۔ اسمبلی انتخابات کا وقت اور اس کے نتائج کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آئندہ چار تا پانچ مہینوں میں پارلیمنٹ کے انتخابات ہونگے اور تلنگانہ اسمبلی کیلئے منتخب ہونے والے اراکین مستقبل میں راجیہ سبھا کیلئے ارکان کا انتخاب عمل میں لائیں گے۔ راجیہ سبھا ارکان کا ارکان اسمبلی کے ووٹ سے انتخاب عمل میں لایا جاتا ہے ۔ راجیہ سبھا کے اراکین ‘ لوک سبھا کے ارکان کے ساتھ مل کر ملک میں ہونے والی نئی قانون سازیوں میں ووٹ دیتے ہوئے ان کی منظوری یا استرداد میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔ اس طرح سے تلنگانہ اسمبلی کیلئے ارکان کا انتخاب در اصل صرف تلنگانہ اسمبلی تک محدود نہیں ہے بلکہ اس سے ملک کے مستقبل اور مسلمانوں کو مستقبل میں پیش آنے والے حالات کیلئے بھی بہت اہمیت کا حامل ہوگا ۔ ویسے تو آج کے اس سوشیل میڈیا کے دور میں لوگ ہر جماعت کی حکمت عملی اور اس کے پوشیدہ عزائم کو بہتر انداز میں سمجھنے لگے ہیں تاہم انہیں رکن اسمبلی منتخب کرنے اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہوئے مستقبل اور قومی سیاست کو بھی پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ یہی وہ ووٹ ہونگے جو مستقبل میں پارلیمنٹ میں ہونے والی قانون سازی میں اہم رول نبھائیں گے ۔ ایسے میں یہ پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ جس جماعت کو مسلمان اپنے ووٹ کے ذریعہ منتخب کریں گے ان کا پارلیمنٹ میں کیا رول رہے گا ۔ کیا یہ جماعتیں ملک میں مسلمانوں کے خلاف اور ان کو نشانہ بنانے والی قوانین کی تیاری میں راست یا بالواسطہ طور پر مدد کریں گی یا پھر ان قوانین کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہوئے کھڑے ہوجائیں گے ۔ ہم نے ماضی میں کئی مواقع پر دیکھا کہ کس طرح سے ارکان راجیہ سبھا نے حکومت کی جانب سے ایوان میں پیش کردہ مخالف مسلم قوانین وغیرہ کی تائید کی ہے اور کس جماعت کے ارکان نے مخالفت کرتے ہوئے ان قوانین کو روکنے کی کوشش کی تھی ۔ مرکز میں نریندر مودی حکومت نے اپنی دو معیادوں کے دوران کئی مواقع پر ایسے قوانین پارلیمنٹ میں پیش کئے اور انہیں مختلف جماعتوں کی راست یا بالواسطہ تائید کے ذریعہ منظور کروانے میں کامیابی حاصل کرلی جن سے ملک کے عوام اور خاص طور پر اقلیتوں و مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ ہوا ہے ۔ ۔ماضی کے ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے مستقبل کے تعلق سے بھی اندیشے ہیں کہ اگر مودی حکومت کو تیسری معیاد کیلئے بھی اقتدار مل جاتا ہے تو پھر مزید شدت کے ساتھ مخالف مسلم اور مخالف اقلیت قوانین بنائے جاسکتے ہیں۔ مودی حکومت کو یقینی طور پر اپنے ارکان کی تائید کے علاوہ دیگر علاقائی اور ریاستی جماعتوں کی تائید بھی درکار ہوگی تاکہ انہیں لوک سبھا کے ساتھ راجیہ سبھا میں منظوری دلائی جاسکے ۔ اب جبکہ ملک کی مختلف ریاستوں میں کانگریس کے ارکان اسمبلی کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور اسے اقتدار مل رہا ہے تو اس کے ارکان راجیہ سبھا کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگا ۔ ایسے میں مودی حکومت کے بلز اور قوانین کی مخالفت ہوگی ۔ تاہم کچھ جماعتیں ماضی کی طرح مودی حکومت کے دباؤ کو قبول کرتے ہوئے ان قوانین کی راست یا بالواسطہ طور پر تائید کرسکتی ہیں اور مودی حکومت کو ان جماعتوں کی تائید کی ضرورت بھی ہوگی ۔ ایسے میں تلنگانہ اسمبلی کیلئے ارکان کا انتخاب بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہوگا ۔ ان ہی ارکان اسمبلی کے ووٹ سے راجیہ سبھا کے ارکان منتخب ہونگے ۔ پارلیمنٹ میں جب قانون سازی کا وقت آئے گا تو لوک سبھا کے ساتھ راجیہ سبھا کے ارکان کی تائید و حمایت بھی بہت اہمیت کی حامل ہوگی ۔ ایسے میں عوام اور خاص طور پر مسلمانوں و دیگر اقلیتوں کیلئے یہ لمحہ فکر ہے ۔ انہیں اس بات کا فیصلہ کرنا ہے کہ وہ صرف اسمبلی نہیں بلکہ راجیہ سبھا میں کس طرح کے ارکان کو بھیجنا چاہیں گے جہاں ان کے خلاف اگر کچھ بلز اور قوانین پیش کئے جائیں تو ان کی تائید یا مخالفت ہوسکے۔ جذباتیت کا شکار ہوئے بغیر یا کسی طرح کے وقتی فائدہ کی پرواہ کئے بغیر فیصلہ کرنے کی ضرورت ہوگی اور مستقبل کے امکانی خطرات کو نظر میں رکھتے ہوئے اپنے نمائندوں کا انتخاب کرنا چاہئے ۔ یہ بات ذہن نشین رکھنے کی ضرورت ہے کہ یہ ووٹ صرف تلنگانہ اسمبلی تک محدود نہیں رہے گا اور اسی ووٹ کے ملک کے مسلمانوں کے مستقبل پر بھی اثرات مرتب ہونگے ۔ یہ بات یقینی بنائی جانی چاہئے کہ آج کا ایک ووٹ مستقبل میں پچھتاوے کا سبب نہ بننے پائے اور یہ نہ کہنا پڑے کہ