حیدرآباد ۔ /6 اگست (سیاست نیوز) تلنگانہ وشواہندو پریشد نے ریاست میں ہندوؤں پر حملوں کے واقعات پر پولیس خاموش تماشائی رہنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ تلنگانہ میں مجلس کے مظالم و ہراسانیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ ان حالات کے خلاف احتجاج منظم کرتے ہوئے /7 اگست کو دفتر ڈائرکٹر جنرل پولیس کا گھیراؤ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اس پروگرام کو کامیاب بنانے کی وشواہندو پریشد و دیگر تمام محاذی تنظیموں سے اپیل کی ۔ علاوہ ازیں وی ایچ پی قائدین و دیگر محاذی تنظیموں کے قائدین نے کریم نگر میں متنازعہ ریمارکس پر مجلس کے رکن اسمبلی اکبر اویسی کو گرفتار کرنے اور کریم نگر پولیس کمشنر مسٹر وی بی کملاسن ریڈی کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا ۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے ریاستی صدر وشواہندو پریشد ایم راما راجو ، صدر بجرنگ دل سبھاش چندر نے کہا کہ ریاست میں ٹی آر ایس حکومت رضاکاروں کی پارٹی کہلانے والی مجلس سے مفاہمت کرکے ہندوؤں پر حملے کروارہی ہے ۔ انہوں نے حکومت پر ہندووں پر کئے جانے والے حملوں کے باوجود خاموشی اختیار کررکھنے کا الزام عائد کیا ۔
