گھن پور میں گرفتاری، دلت قائد کے مجسمہ کی توہین پر احتجاج
حیدرآباد۔ سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ کو ورنگل روانگی کے دوران لنگالہ گھن پور پولیس نے حراست میں لے لیا۔ ورنگل میں دلت قائد مہاتما جیوتی راؤ پھولے کے مجسمہ کو نقصان پہنچانے کے واقعہ کے بعد ہنمنت راؤ ورنگل روانہ ہورہے تھے تاکہ احتجاج میں حصہ لے سکیں۔ گھن پور میں پولیس نے انہیں روک کر حراست میں لے لیا۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ وہ مہاتما جیوتی راؤ پھولے کے مجسمہ کی بے حرمتی کے خلاف معائنہ کیلئے ورنگل جارہے ہیں اور امن وضبط کا کوئی مسئلہ پیدا نہیں کریں گے۔ پولیس نے ان کی دلیل سے اتفاق نہیں کیا اور متعلقہ پولیس اسٹیشن منتقل کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں دن بہ دن کورونا کے کیسوں میں اضافہ ہورہا ہے دوسری طرف حکومت اور پولیس کانگریس قائدین پر پابندیاں عائد کررہے ہیں۔ انہوں نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد میں ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کا مجسمہ منہدم کردیا گیا اور ورنگل میں جیوتی راؤ پھولے کے مجسمہ کو نقصان پہنچانا دلتوں کے خلاف ایک سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈائرکٹر جنرل پولیس مہیندرریڈی، چیف منسٹر کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے اپوزیشن کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پولیس کا جانبدارانہ رویہ برقرار رہا تو عوام بغاوت پر اُتر آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں دلتوں پر مظالم کے واقعات میں اضافہ ہوچکا ہے۔ چیف منسٹر کے حلقہ انتخاب گجویل میں ایک دلت کسان نے جبراً اراضی حاصل کرلینے پر خودکشی کرلی ہے۔ ریاست کے مختلف اضلاع میں دلتوں پر مظالم کو روکنے حکومت ناکام ہوگئی۔ ہنمنت راؤ نے انتباہ دیا کہ اگر چیف منسٹر فوری کارروائی نہ کریں تو انہیں دلتوں اور کمزور طبقات کی برہمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔