ویراٹ کوہلی کو دھمکی کا ٹوئیٹ اکاؤنٹ حیدرآباد سے

   

تحقیقات میں انکشاف، بی جے پی کی تائید اور مخالف مسلم ٹوئیٹس بھی شامل
حیدرآباد۔4۔نومبر (سیاست نیوز) ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان ویراٹ کوہلی کو ٹوئیٹر پر دی گئی دھمکی کے بعد کہا جارہا تھا کہ پاکستان سے یہ ٹوئیٹر ہینڈل کام کر رہا ہے لیکن تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا کہ یہ ٹوئیٹر اکاؤنٹ حیدرآباد کا ہے۔ ٹی 20 ورلڈکپ میں پاکستان کے ہاتھوں ہندوستان کی شکست کے بعد سوشیل میڈیا میں ہندوستانی بولر محمد سمیع کو نشانہ بنایا جارہا تھا ۔ ویراٹ کوہلی نے محمد سمیع کی تائید کی جس کے بعد ٹوئیٹر پر انہیں 9 ماہ کی دختر کے حوالے سے دھمکیاں دی گئیں۔ مختلف میڈیا ایجنسیوں کی تحقیقات میں یہ دعویٰ غلط ثابت ہوا ہے کہ یہ ٹوئیٹر اکاؤنٹ پاکستان کا ہے۔ آئی ٹی شعبہ سے متعلق جانچ کی مہارت رکھنے والی کمپنیوں نے اپنی تحقیقات میں بتایا کہ جاریہ سال اپریل میں ٹوئیٹر اکاؤنٹ قائم کیا گیا اور اس عرصہ میں یوزر نیم میں کئی بار تبدیلی کی گئی ہے۔ تحقیقات میں شامل ادارہ نے کہا کہ ٹوئیٹر اکاؤنٹ سے کئی ہندوستانی اکاؤنٹ سے مراسلت کی گئی۔ ہندوستان میں سرمایہ کاری کے مسئلہ پر بھی بات چیت رہی۔ تحقیقات میں پتہ چلا کہ تلگو زبان میں بھی بات چیت ہوئی ہے۔ ٹوئیٹر پالیسی کے تحت یوزر کو یوزر نیم تبدیل کرنے کی اجازت ہے لیکن نیومرک آئی ڈی اور یونک آئی ڈی وہی برقرار رہتا ہے ۔ تحقیقات میں پتہ چلا کہ ٹوئیٹر پر جو دو علحدہ ٹوئیٹ کئے گئے وہ دراصل ایک ہی اکاؤنٹ سے ہے۔ تحقیقاتی ایجنسیوں نے ہندوستانی فینانشیل سرویس کمپنیوں کے ای میل پیامات اور تلگو زبان میں مراسلت کی بنیاد پر نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ٹوئیٹر اکاؤنٹ ہندوستان کا ہے۔ اس اکاؤنٹ سے بی جے پی کی حمایت میں کئی ٹوئیٹ کو آگے بڑھایا گیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اس اکاؤنٹ سے مخالف مسلم ٹوئیٹ بھی کئے جاچکے ہیں۔ آئی ٹی ماہرین کے مطابق ویراٹ کوہلی کو جس ٹوئیٹر سے دھمکی دی گئی وہ پاکستان کا نہیں ہے۔ ر