اعلی عہدیداروں اور منتخبہ نمائندوں کی موجودگی میں کارروائی کی گئی ۔ رامیشورم مندر کی توسیع کیلئے اقدام ۔ متولی سے درگاہ کی منتقلی کا اجازت نامہ حاصل کرلینے کا عذر
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد ۔ 23 ۔ فروری ۔ تلنگانہ میں سرکاری طور پر اعلیٰ عہدیداروں اور حکام و منتخبہ نمائندوں کی نگرانی میں درگاہ حضرت سید تاج الدین خواجہ باگ سوارؒ کو رامیشورم مندر پراجکٹ کی توسیع وتعمیر کیلئے مکمل شہید کردیاگیا اور اس تاریخی درگاہ کے نقوش مٹادیئے گئے۔ ضلع راجنا سرسلہ ویملواڑہ میں اس درگاہ کو شہید کرنے گذشتہ کئی ماہ سے سازشوں کا سلسلہ جاری تھا اور جوبلی ہلز ضمنی انتخابات کے دوران اس درگاہ کی شہادت کیلئے کوششوں کو وقف بورڈ نے مداخلت کرکے ناکام بنایا تھا لیکن اب حکومت کے اعلیٰ حکام کی نگرانی میں درگاہ کو صبح کی اولین ساعتوں کے دوران مکمل شہید کرکے اس کے نام و نشان مٹادیئے گئے۔ تفصیلات کے مطابق حکومت نے ’جنوبی کاشی‘ کے طور پر معروف رامیشورم مندر کے احاطہ میں موجود درگاہ حضرت سید تاج الدین باگ سوارؒ کی درگاہ و چلہ مبارک کو ضلع کلکٹر کی نگرانی میں شہید کرکے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور کل اس پر عمل کرکے درگاہ کو شہید کردیاگیا۔ بتایا گیا کہ حکومت نے رامیشورم مندر کی توسیع اور ترقی کے علاوہ اسے مذہبی سیاحتی مرکز کے طور پر فروغ دینے کا جو منصوبہ تیار کیا تھا اس پر عمل کیلئے کئی سرکردہ وزراء اور متعلقہ کانگریس رکن اسمبلی آدی سرینواس نے درگاہ متولیان سے معاملت کرکے اسے شہید کرنے کو منظوری دی ہے جبکہ متولی درگاہ یا اس سے متصل اراضیات کا محض نگران ہوتا ہے مالک نہیں ہوتا اور عہدیداروں کی جانب سے متولیان سے مکتوب حاصل کرنے کا ادعا کرکے کہا جا رہاہے کہ حکومت نے شہید درگاہ کی مندر کے احاطہ سے منتقلی کیلئے متولیان کی منظوری لی تھی ۔ مذکورہ درگاہ و چلہ کی شہادت بھی اسی طرح رات کے اندھیرے میں کی گئی جس طرح کوڑنگل میں تین قبرستانوں کو شہید کیاگیا تھا اور چیوڑلہ میں قطب شاہی دور کی مسجد جاگیر دار کو شہید کرنے کی کاروائی کی گئی تھی ۔ وقف بورڈ اور حکومت کے سرکردہ ’نام نہاد‘ اقلیتی قائدین اور ’مسلمانوں‘ کے نمائندہ ہونے کا دعویٰ کرنے والوں نے ’مسجد جاگیر دار‘ کی تعمیر نو کو یقینی بنانے کا وعدہ کیا تھا لیکن تاحال اس پر کوئی تعمیرات نہیں ہوئیں اسی طرح کوڑنگل میں مسمار عاشور خانہ اور چلہ مبارک کی شہادت کے بعد کئی اعلانات کئے گئے اور اب کہا جا رہاہے کہ ویملواڑہ درگاہ کی منتقلی کیلئے بھی متولیان سے اجازت لی گئی تھی اور متولیان کی منظوری کے بعد ہی درگاہ کو شہید کیا گیا ۔ سرکردہ عہدیداروں کی نگرانی میں اس کارروائی سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ تلنگانہ میں کانگریس نہیں بلکہ یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت ہے جو کہ مسلمانوں کے مساجد ‘ قبرستانوں‘ عاشورخانوں کے علاوہ درگاہوں کو نشانہ بناکر تسکین پا رہی ہے۔ ویملواڑہ میں اس کارروائی کی تفصیلات کے متعلق آگہی کے بعد صدرنشین وقف بورڈ جناب سید عظمت اللہ حسینی سے رابطہ پر انہوں نے توثیق کی کہ ویملواڑہ میں واقع درگاہ حضرت سید تاج الدین باگ سوارؒکا منتقل کرنے سرکاری افسران کی نگرانی میں شہید کیا گیا ۔ انہو ںنے بتایا کہ انہیں شکایت ملتے ہی وقف بورڈ کی ٹاسک فورس ٹیم کے ذمہ داروں کو ویملواڑہ روانہ کیا جو ویملواڑہ پہنچ چکی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ سال گذشتہ ماہ اکٹوبر میں حکومت سے اس درگاہ کی منتقلی کے کی کوشش کی گئی لیکن وقف بورڈ نے حکومت کو ایسا کرنے سے باز رکھا تھا لیکن اب وقف بورڈ کو بے خبر رکھتے ہوئے درگاہ کو شہید کرنے کی اطلاعات پر بورڈ نے ٹیم کو روانہ کیا تاکہ درگاہ کو شہید کرنے والوں کے خلاف کاروائی کو یقینی بنایا جاسکے۔ ریاست میں ماہ رمضان المبارک کی آمد کے بعد سے ہی فرقہ وارانہ نوعیت کے واقعات میں اضافہ پر مختلف گوشوں سے تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے اور اس دوران حکومت کی نگرانی میں درگاہ کی شہادت اور اس کیلئے وقف بورڈ کو بے خبر رکھنے سے اقلیتوں میںتشویش کی لہر ہے۔ ذرائع کے مطابق اس درگاہ کا آندھراپردیش گزٹ میں موقوفہ جائیداد کی حیثیت سے اندراج ہے اور اس کے تحت زائد از 25ایکڑ اراضی ہے ۔ علاوہ ازیں اس درگاہ کی تولیت کے تنازعہ کودور کرنے عہدیداروں اور وزراء کی مداخلت کے ذریعہ متولیان پر دباؤ ڈالنے اور انہیں مندر کے تعمیراتی کاموں کا حصہ بنانے کا تیقن دے کر 7 اکٹوبر 2025کو ہی منتقلی کیلئے آمادگی کا مکتوب حاصل کرلیا تھا لیکن اس کے بعد وقف بورڈ نے متولیان کے مکتوب پر اعتراض کرکے چیف اکزیکیٹیو آفیسر کے ذریعہ عہدیداروں کو شکایات روانہ کرکے ایسی حرکت سے باز رہنے کی تاکید کی تھی ۔ بتایاجاتا ہے کہ حکومت کے وہپ آدی سرینواس کو متولیان نے درگاہ کی منتقلی کا مکتوب حوالہ کیاتھا اور اسی مکتوب کی بنیاد پر رامیشورم مندر کے توسیعی و تعمیری کاموں کیلئے درگاہ کو شہید کردیاگیا ۔